عمین۔ ثم إذا دقّقتَ النظر اوأمعنت فیما حضر، فیظہر علیک أن قولہ تعالی رُوحٌ منہ یشابہ قولہ تعالٰی جمیعًا منہ، فمن الغباوۃ أن تُثبِت
من لفظ رُوحٌ مِنْہُ ألوہیۃَ عیسی، ولا تُقِرّ من لفظ جمیعًا منہ بألوہیۃ أرواح الکلاب والقردۃ والخنازیر وأشیاء أخری، فإن منطوق الآیۃ یشہد علی أنہا جمیعا منہ، فمُتْ من الندامۃ إن کنت من المستحیین وتفکروا
یا معشر النصاریٰ ألیس فیکم رجل من المتفکرین؟ ولیس لک أن ترفع فی جوابنا الصوتَ وأن تلاقی من فکرک الموتَ، فإن مثل الکاذب کخُذْروفٍ مُدَحْرَجٍ ولا قرار لہ عند الصادقین۔
ومن اعتراضات ہذا الخائن
الضنین أنہ ذکر فی توزینہ الذی ہو عُشُّ الشیاطین، أن وحی القرآن کان من الشیطان، وما کان من الرّوح الأمین، وأَوَّلَ لفظَ شَدیدُ الْقُوَی ولفظ ذُو مِرَّۃ بالخُبث
پھر اگر تو غور سے دیکھے اور واقعات موجودہ
میں غور کرے تو تیرے پر ظاہر ہو گا کہ اللہ جلّ شانہ‘ کا یہ قول کہ
روح منہ ایسا ہی قول ہے جیسا کہ اس کا دوسرا قول سو بڑی نادانی کی بات ہے کہ روح منہ
کے لفظ سے حضرت عیسیٰ
کی خدائی تو ثابت کرے اور جمیعاً منہ کے لفظ سے
کتوں اور بلیوں اور سؤروں اور دوسری تمام چیزوں کی خدائی کا اقرار نہ کرے کیونکہ منطوق آیت کا
دلالت کر رہا ہے کہ ہر یک چیز جمیعاً
منہ میں داخل ہے یعنی تمام ارواح وغیرہ خدا سے ہی نکلے ہیں پس اب ندامت
سے مر جا اگر کچھ شرم ہے اور اے نصرانی لوگو! اس میں غور کرو کیا تم میں کوئی بھی غور کرنے والا نہیں ہے
اور کبھی ممکن نہیں
جو تو ہمارا جواب دے سکے اگرچہ اسی فکر میں مر جائے کیونکہ جھوٹا آدمی ایک گیند کی طرح
گردش میں ہوتا ہے اور سچوں کے سامنے اس کو قرار نہیں۔
اور اس بخیل
خیانت پیشہ کے اعتراضات میں سے ایک یہ ہے جو وہ اپنی کتاب توزین میں جوشیاطین کا آشیانہ ہے یہ لکھتا ہے کہ وحی قرآن شیطان کی طرف سے تھی اور روح الامین کی طرف سے نہیں تھی اور
شدید القوٰی اور ذو مرّۃ کے لفظ کی اس نے