وألفاظ أخری، لیظہَر علیک جلالۃُ آدم وشأنہ الأعلٰی۔ فإن منطوق الآیۃ یدل علی أن روح اللّٰہ نزل فی آدم بنزول أجلی، حتّٰی جعلہ مسجودَ الملا ئکۃ ومظہرَ تجلّیاتٍ وأقربَ إلی اللّٰہ الأغنی، وأعلمَ وأفضلَ من الملا!ئکۃ أجمعین، وخلیفۃَ اللّٰہ علی الأرضین۔ وأما الآیۃ التی نزلت فی شأن عیسی فما تجعلہ أرفع وأعلی ولا أصفٰی وأزکٰی، بل یثبت منہ أن عیسٰی روحٌ من اللّٰہ وعبدُہ العاجز کأشیاء أخریٰ ومن المخلوقین۔ ما سجَدہ إبلیس، بل أمرہ أن یسجد لہ، ومع ذلک جرّبہ ذلک الخبیث، وسجد لآدم الملا ئکۃ کلّہم أجمعین۔ وإنّ آدم أنبأ الملا ئکۃَ بأسماء سائر الأشیاء ، فثبت أنہ أعلم وسِرُّہ محیط علی الأرض والسماء ، ولکن عیسی أقرّ بأنہ لا یعلم الساعۃ، وأشار إلی أن الملا ئکۃ قد فاقوہ علمًا وأکملوا الخوف والطاعۃ، فتفکروا فی ہذا ولا تمشوا کقوم من روحی ہے اور دوسرے لفظوں کو بھی سوچ تاکہ تیرے پر حضرت آدم کی شان اعلیٰ ظاہر ہو کیونکہ منطوق آیت کا دلالت کرتا ہے کہ روح اللہ آدم میں اترا تھا اور وہ اترنا بہت روشن تھا یہاں تک کہ آدم ملائکہ کا سجدہ گاہ ٹھہرا اور تجلیات عظمیٰ کا مظہر بنا اور خدائے غنی سے بہت قریب ہوا اور افضل ٹھہرا۔ اور خدا تعالیٰ کا خلیفہ بنا مگر وہ آیت جو حضرت عیسیٰ کی شا ن میں نازل ہوئی ہے سو وہ اس کو کچھ بہت اونچا نہیں بناتی اور نہ زیادہ پاک اور صاف بناتی ہے بلکہ اس سے تو صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک روح ہیں جیسا کہ دوسری چیزیں خداتعالیٰ کی طرف سے ہیں اور ثابت ہوتا ہے کہ وہ مخلوق ہے شیطان نے اس کو سجدہ نہ کیا بلکہ چاہا کہ وہ شیطان کو سجدہ کرے اور اس کا امتحان لیا اور آدم کو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا اور آدم نے فرشتوں کو تمام چیزوں کے نام بتلائے پس ثابت ہوا کہ وہ ان سے زیادہ عالم تھا اور اس کا سر تمام کائنات پر محیط تھا مگر حضرت عیسیٰ نے تو اقرار کیا کہ اس کو قیامت کا علم نہیں کہ کب آئے گی اور یہ بھی اشارہ کیا کہ ملائک اس سے علم اور طاعت میں افضل ہیں سو اس بات کو سوچو اور اندھوں کی طرح مت چلو