ومسرّۃ قلوبکم فی الأکاذیب، وطبتم نفسًا بإلغاء طلب الحق وإلقاء حبل اللّٰہ القریب، وکنتم قوما عادین؟ ویل لکم۔ إنکم سقطم علی دِمْنَۃ، وأعرضتم عن روضۃ، بل ترکتم شجراءَ وآثرتم مَرْداءََ، ونزلتم عن متن الرکوبۃ، واخترتم طریق الصعوبۃ، وقفوتم أثر المبطلین۔ وإن کنتم تظنون أن القرآن صدّق قولکم وأعان، وقال فی شأن عیسی ورُوحٌ منہ وقبِل أنہ خرَج مِن لدنہ، فما ہذا إلا جہل صریح ووہم قبیح وخطأ مبین۔ ثم إن فُرِضَ أن قولہ تعالی ورُوحٌ منہ یزید شأنَ ابن مریم، ویجعلہ ابن اللّٰہ وأعلی وأکرم، فیجب أن یکون مقام آدم أرفع منہ وأعظم، ویکون آدم أول أبناء ربّ العالمین؛ فإن فی شأن آدم بیان أکبر من شأن عیسٰی، فتفکَّرْ فی آیۃ 3 وتدبَّرْ کأولی النہی، وفکِّرْ فی لفظ خلقتُ بیدی ولفظ آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کی خوشی ہے اور تم اس بات پر خوش ہو گئے کہ حق کو چھوڑ دو اور خدا کے رسہ کو جو بہت نزدیک ہے پھینک دو۔ تم پر افسوس کہ تم ایک مزبلہ پر گرے اور باغ سے کنارہ کیا بلکہ تم نے درختوں والی زمین کو چھوڑا اور ویران بے درخت زمین کو اختیار کیا اور سواری سے تم اتر بیٹھے اور خرابی اور سختی کا راہ اختیار کر لیا اور باطل پرستوں کے پیچھے لگ گئے۔ اور اگر تمہیں یہ گمان ہے کہ قرآن تمہارے قول کی تصدیق کرتا اور تمہیں مدد دیتا ہے اور عیسیٰ کے بارہ میں کہا ہے کہ وہ اس سے روح ہے اور اس بات کو قبول کر لیا ہے کہ وہ اس سے نکلا ہے تو یہ خیال تمہارا صریح جہل اور مکروہ وہم ہے اور کھلاکھلا خطا ہے۔ پھر اگر ہم فرض کر لیں کہ روح منہ کا لفظ حضرت عیسیٰ کی شان بڑھاتا ہے اور اس کو ابن اللہ اور بلند تر ٹھہراتا ہے سو اس سے لازم آتا ہے کہ حضرت آدم کا مقام حضرت مسیح سے زیادہ بلند ہو اور پہلا بیٹا خدا تعالیٰ کا حضرت آدم ہی ہو۔ کیونکہ حضرت آدم کی شان میں حضرت عیسیٰ کی نسبت زیادہ تعریف بیان کی گئی ہے سو عقلمندوں کی طرح لفظ فقعوا لہ ساجدین میں غور کر اور پھر اس لفظ میں غور کر جو خلقت بیدی اور سوّیتہ اور نفخت فیہ