ویحیی وغیرہما من النبیین۔ ولا حاجۃ إلی أن نطوّل الکلام ونضیع الأوقات ونزید الخصام، فإن الخواص من النصاریٰ والعوام یعرفونہ وما کانوا منکرین۔ فلم لا تَسْتشفّ أیہا الجہول والغبی المعذول فی کتب الأولین؟ ولم لا تقبل النصیحۃ، وتعادی العقیدۃ الصحیحۃ، ولا تکون من المسترشدین؟ نعطیک شہدًا یَنْقَع، وتعدو إلی سمّ مُنقَع، أترید أن تکون من الہالکین؟ وأمّا ما ظننتَ أن اللّٰہ یسمّی المسیح فی القرآن روحًا من اللّٰہ الرحمٰن، ولا یسمیہ بشرًا ومن نوع الإنسان، فأعجبنی أنکم لم لا تأنفون من البہتان، ولم لا تستحیون من خرافات وتنضنضون نضنضۃ الثعبان، وما کنتم منتہین۔ وتمیسون کالسکاریٰ وجدانًا ووجدًا، ولا ترون غَورًا ولا نَجْدًا، ولاؔ تخافون ہوّۃ السّافلین۔ أجعلتم قرّۃ عیونکم اور ایسا ہی دوسرے نبیوں پر۔ اور کچھ ضرورت نہیں کہ ہم اس کلام کو طول دیں اور وقت کو ضائع کریں اور جھگڑے کو بڑھاویں کیونکہ نصاریٰ ان تمام باتوں کو جانتے ہیں اور منکر نہیں ہیں۔ پس اے نادان کیوں اپنی نظر کو پہلی کتابوں میں عمیق حد تک نہیں پہنچاتا اور کیوں نصیحت کو قبول نہیں کرتا اور صحیح عقیدے کا دشمن ہو رہا ہے اور ہدایت کی راہ پر نہیں آتا۔ ہم تجھے ایک شہد پیاس بجھانے والا دیتے ہیں اور تو ایک تیز زہر کی طرف دوڑتا ہے تا اس کو پی لے کیا تیرا مرنے کا ارادہ ہے۔ اور یہ جو تو نے خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ قرآن میں مسیح کا نام روح من اللہ رکھتا ہے اور اس کا نام بشر نہیں رکھتا اور منجملہ نوع انسان اس کو قرار نہیں دیتا سو مجھے تعجب ہے کہ تم لوگ کیوں بہتان سے کراہت نہیں کرتے اور خرافات بکنے کے وقت تمہیں کیوں شرم نہیں آتی اور اژدہا کی طرح زبان ہلاتے ہو اور باز نہیں آتے اور تم مارے غصہ اور غم کے ایسے چلتے ہو جیسا کہ ایک مست چلتا ہے اور نشیب و فراز کو کچھ بھی نہیں دیکھتے اور گڑھے میں گرنے سے نہیں ڈرتے۔ کیا جھوٹ بولنے میں ہی تمہاری