فاتق ربَّ العباد وفکِّرْ لطلب السَّداد، مجتہدًا لتحصیل الرشاد، وتارکًا سبل الرقاد وجاہدًا، ہل یکون النازل والمنزَل علیہ شیئا واحدا؟
کلّا بل لا بد من أن یکونا شیئین متغائرین، کما لا یخفی علی ذی العینین، وعلی سائر العاقلین۔ فأیّ دلیل أکبر من ہذا لقوم منصفین، الذین ینثالون إلی الحق موجفین، ولا یترکون الصراط کعمین؟ وأیّ فرق فی
الروح النازل علی عیسٰی والروح الذی أُعطِیَ لموسٰی کلیم رب العالمین؟ ألا تتفکرون یا معشر الظالمین وتسقطون علی أراجیف الکاذبین؟ ألا تقرأون فی التوراۃ الإصحاح الحادی عشر ما قیل إنہ قول أصدق
القائلین، وہوؔ أنّ الربّ قالَ لِمُوسٰی فأنزلُ وأنا أتکلم معک، وآخذ من الروح الذی علیک وأضع علیہم، أَیْ علی أکابر أمّتہ، وہم کانوا سبعین۔ وکذلک نزل ہذا الروح علی جد عیسٰی ومُرشدہ داؤد
سو خدا سے ڈر
اور حق الامر کے ڈھونڈھنے کی فکر کر مگر اس فکر میں
کوشش کر اور نیند کی راہوں سے الگ ہو کیا نازل اور منزل علیہ ایک ہی چیز ہو سکتے ہیں
بلکہ یہ بات ضروری ہے کہ وہ دو متغائر
چیزیں ہیں جیسا کہ عقلمندوں پر
پوشیدہ نہیں۔ پس منصفوں کے لئے اس سے بڑھ کر اور کونسی دلیل ہوگی وہ منصف جو
حق کی طرف متوجہ ہوکر دوڑتے ہیں اور راہ کو اندھوں کی طرح نہیں
چھوڑتے اور کونسا فرق ان دو روحوں میں ہے
جو حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ پر نازل ہوئیں
اے ظالمو! کیا تم کچھ بھی فکر نہیں کرتے اور جھوٹوں کی خبروں پر گرے جاتے ہو۔ کیا
تم
تورات کے گیارہویں باب میں وہ کلام نہیں پڑھتے جس میں کہا گیا ہے کہ اس خدا کا کلام ہے جو اپنی باتوں میں سب سے بڑھ کر سچا ہے اور وہ یہ ہے کہ رب نے موسیٰ کو کہا کہ میں اتروں گا
اور تجھ سے کلام کروں گا اور اس
روح میں سے لوں گا جو تجھ پر ہے اور ان پر ڈالوں گا یعنی بنی اسرائیل کے اکابر پر جو ستر آدمی
تھے۔ اور اسی طرح روح حضرت عیسٰے کے دادے اور اس
کے مرشد یحییٰ پر بھی نازل ہوئی