وأعجبَنی طریق المعترض الفتّان أنہ لا یمتنع من الہذیان، ویہذی کمثل النشوان، ویقول إن عیسٰی ہو الروح الذی یوجد ذکرہ فی جمیع
مقامات القرآن، وفی کتب أخری التی ہی من اللّٰہ الرحمٰن، وما ہو إلا من الکاذبین۔ فاعلموا یا معشر الطلّاب أنہ یسعٰی إلی السراب ولا یخطو إلی الصواب، وإن فی کلامہ دجل عجیب وتمویہ غریب وکذب مبین۔
ألا یعلم أن الروح نزل علی عیسٰیؔ کما نزل علی موسٰی ونبیّین آخرین؟ لِم یلبس الحق بالباطل کالدجّال الغالث؟ ألا یقرأ فی الإنجیل متّی الإصحاح الثالث وإذا السماوات قد انفتحت لہ، فرأی روحَ اللّٰہ نازلۃً
مثل حمامۃ وآتیًا علیہ ۔۔۔ ثم أُصعِدَ یسوع إلی البریۃ من الروح لیجرَّب من الشیطان اللعین۔ فثبت أنّ روح القدس نزل علی المسیح کما نزل علی إبراہیم وإسماعیل الذبیح وغیرہ من المرسلین۔
اور اس فتنہ
انگیز معترض کے طریق سے مَیں تعجب کرتا ہوں بکواس سے باز نہیں آتا اور
شرابیوں کی طرح بکواس کر رہا ہے اور کہتا ہے کہ عیسیٰ وہی روح ہے جس کا جا بجا قرآن میں ذکر پایا جاتا
ہے
اور ایسا ہی دوسری کتابوں میں بھی ذکر پایا جاتا ہے جو خداتعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی تھیں حالانکہ وہ اس دعویٰ میں سراسر
جھوٹ بول رہا ہے۔ سو اے حق کے طالبو! یقیناًسمجھو کہ
وہ صرف ریت کی چمک کی طرف دوڑتا ہے جس میں پانی
نہیں اور حق کی طرف قدم نہیں رکھتا اوراس کی کلام میں ایک عجیب قسم کا دجل ہے اور دھوکا دہی اور
کھلا کھلا جھوٹ ہے۔ کیا نہیں
جانتا کہ روح جیسا کہ حضرت عیسیٰ پر نازل ہوا ایسا ہی حضرت موسیٰ پر نازل ہوا
اور ایسا ہی دوسرے نبیوں پر۔ کیوں حق کے ساتھ جھوٹ ملاتا ہے جیسے کہ دجال اچھے کے ساتھ برے کو
ملانے والے۔ کیا
وہ انجیل متی کے تیسرے باب کو نہیں پڑھتا کہ یکدفعہ اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھل گئے
سو اس نے خدا کی روح کو کبوتر کی طرح اترتے اور اپنے پر آتے دیکھا۔
پھر یسوع روح سے جنگل کی طرف چلا گیا
تا شیطان سے آزمایا جاوے۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ روح القدس
مسیح پر ایسا ہی نازل ہوا جیسا کہ ابراہیم اور اسمٰعیل اور دوسرے نبیوں
پر