وہ اپنی زیادتیوں اور تعدیوں کی وجہ سے ہریک بلندی سے دوڑے ہیں اور اپنے بتوں سے زمین کو ناپاک کر رہے ہیں نشکو إلی الرحمن شرَّ زمانہم ونعوذ بالقدّوس من شیطانہم ہم ان کے زمانے کے شر سے خدا تعالیٰ کی طرف شکایت لے جاتے ہیں اور ان کے شیطان سے پاک پروردگار کی پناہ میں آتے ہیں ہل مِن صَدوق یُوجدَنْ فی قومہم أم ہل عرفتَ الصدق فی بلدانہم کیا کوئی راستباز ان کی قوم میں پایا جاتا ہے یا تو نے شناخت کیا کہ ان کے شہروں میں سچائی بھی ہے ہم یعبدون الآدمی کمثلہم ہم ینشرون الفسق فی أوطانہم وہ اپنے جیسے آدمی کی پرستش کررہے ہیں وہ اپنے وطنوں میں بدکاری کو پھیلاتے ہیں الماکرون الکائدون من الہوی والزور کالأثمار فی أغصانہم حرص کی وجہ سے مکار اور فریبی ہیں اور ان کی شاخوں میں جھوٹ پھلوں کی طرح موجود ہے العین باکیۃ علی حالاتہم للعقل حسرات علی ہذیانہم آنکھ ان کے حالات پر رو رہی ہے اور عقل کو ان کے بکواس پر حسرتیں ہیں مکرٌ علی مکر خیالُ قلوبہم کذبٌ علی کذب بیانُ لسانہم ان کے دلوں کے خیال مکر پر مکر ہے اور ان کی زبان کا بیان جھوٹ پر جھوٹ ہے إنی أراہم کالبنین لِغُوْلِہم إن التطہر لا تحل بخانہم میں دیکھتا ہوں کہ وہ اپنے ابلیس کے لئے بطور بیٹوں کے ہیں اور پاکیزگی ان کے کاروان سرائے میں نہیں اترتی کیف الرجاء وقد تأبّطَ قلبُہم شرًّا أراہ دخیلَ جَذْرِ جنانہم کیونکر امید کریں حالانکہ ان کے دل شرارت کو اپنی بغل میں لئے بیٹھے ہیں اور وہ شرارت ان کے دلوں کے اندر گھسی ہوئی ہے بل کذّبوا بالحق لما جاء ہم وتمایلوا حقدًا علی بہتانہم بلکہ جب حق ان کے پاس آیا تو انہوں نے تکذیب کی اور کینہ سے اپنے بہتانوں کی طرف جھک پڑے کم مِن سموم ہبَّ عند ظہورہم کم مِن جَہول صِیدَ مِن أرسانہم ان کے ظاہر ہونے سے بہت سی گرم ہوائیں چلی ہیں اور ان کی رسیوں سے بہت جاہل شکار ہو گئے ہمؔ أنکروا بحر العلوم بخبثہم واستغزروا ما کان فی کِیزانہم انہوں نے اپنے خبث سے علموں کے دریا سے انکار کیا اور جو کچھ ان کے پیالوں میں تھا ان کو بہت کچھ سمجھا لا یعلم النو!کی دخیلۃَ أمرہم مِن غیرِ رقّتہم ولینِ لسانہم بے وقوف لوگ ان کی اصل حقیقت کو نہیں جانتے بس اسی قدر جانتے ہیں کہ وہ زبان کے نرم ہیں واللّٰہِ لولا ضنکُ عیشٍ مُقلِقٍ ما مالَ مرتدّ إلی أدیانہم اور بخدا اگر تنگی رزق کسی کو تکلیف نہ دیتی تو کوئی مرتد ان کے دین کی طرف میل نہ کرتا قد جاء ہم قوم بحرصِ لبانہم ولینفُضَنْ ما کان فی أردانہم ایک قوم تو ان کے دودھ کی حرص سے ان کے پاس آئی تاکہ وہ جو کچھ ان کی آستینوں میں ہے جھاڑ لیں کانوا کذئب البَرِّ مکلومِ الحشا مِن جوعہم فسعوا إلی عمرانہم وہ جنگل کے بھیڑیئے کی طرح بھوک سے خستہ اندرون تھے پس وہ ان کی آبادی کی طرف دوڑے قوم سُقوا کأس الحتوف بوعظہم قوم خَروفٌ فی یدَی سِرحانہم ایک قوم نے تو موت کے پیالے ان کے وعظ سے پی لئے اور ایک دوسری قوم برّہ کی طرح اس بھیڑیئے کے ہاتھوں میں ہے عمّتْ بلایاہم وزاد فسادہم واشتدّ سیل الفتن من طغیانہم ان کی بلائیں عام ہو گئیں اور ان کا فساد بڑھ گیا اور فتنوں کا سیلاب ان کی بے اعتدالیوں سے بہت سخت ہوگیا یا رَبِّ خُذْہم مثلَ أخذِک مفسدًا قد أفسدَ الآفاقَ طولُ زمانہم اے خدا تو ان کو پکڑ جیسا کہ تو ایک مفسد کو پکڑتا ہے ان کے طول زمانہ نے دنیا کو بگاڑ دیا أدرِکْ رجالًا یا قدیرُ ونسوۃً رحمًا ونَجِّ الخَلْق من طوفانہم اے قادر تو اپنے رحم سے مردوں اور عورتوں کی جلد خبر لے اور مخلوق کو اس طوفان سے نجات بخش حلّتْ بأرض المسلمین جنودہم فسرَتْ غوائلہم إلی نسوانہم ان کے لشکر مسلمانوں کی زمین میں اتر آئے اور ان کی بلاؤں نے مسلمانوں کی عورتوں تک سرایت کی یا ربَّ أحمدَ یا إلٰہَ محمّدٍ اِعصِمْ عبادک من سموم دخانہم اے احمد کے رب اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے الہٰ اپنے بندوں کو ان کے دھوؤں کی زہروں سے بچا لے یا عونَنا انصُرْ مَن سواک ملاذنا ضاقت علینا الأرض من أعوانہم اے ہمارے مددگار تیرے سوا ہمارا کون جاپناہ ہے ہم پر ان لوگوں کے مدد گاروں سے زمین تنگ ہو گئی کَسِّرْؔ زُجاجتہم إلہی بالصفا واعصِمْ عبادک من سموم بیانہم اے خدا پتھروں سے ان کے شیشے کو توڑ دے اور ان کے بیان کی زہر سے اپنے بندوں کے بچا لے سبُّوا نبیَّک بالعناد وکذّبوا خیرَ الورٰی فانظرْ إلی عدوانہم تیرے نبی کو انہوں نے عناد سے گالیاں دیں اور جھٹلایا وہ نبی جو افضل المخلوقات سے ہے سو تو ان کے ظلم کو دیکھ یا ربّ سحِّقْہم کسحقک طاغیًا وَانْزِلْ بساحتہم لہدم مکانہم اے میرے رب ان کو ایسا پیس ڈال جیسا کہ تو ایک طاغی کو پیستا ہے اور ان کی عمارتوں کو مسمار کرنے کے لئے ان کے صحن خانہ میں اتر آ یا رب مَزِّقْہم وفَرِّق شَمْلَہم یا ربِّ قَوِّدْہم إلی ذوبانہم اے میرے رب ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر اور ان کی جمعیت کو پاش پاش کر دے اے میرے رب ان کو ان کے گداز ہونے کی طرف کھینچ قد أزمعوا إضلالنا ووبالَنا فاضرِبْ مکایدہم علی أبدانہم انہوں نے ہمارا گمراہ کرنا اور وبال میں ڈالنا دلوں میں ٹھان لیا ہے سو تو ان کے مکر انہیں کے جسموں پر مار وإذا رمیتَ فإن سہمک قاتلٌ حَدٌّ کأسیاف علی شجعانہم اور جب تو تیر چلاوے تو تیر تیرا قتل کرنے والا ہے تیز ہے اور تلواروں کی طرح ان کے بہادروں پر پڑتا ہے صِرْنا حَمولۃَ جورِہم وجفاۂم زُمّتْ رکاب الہجر مِن وثبانہم ہم ان کے ظلم کے شتر باربرادری ہو گئے جدائی کے اونٹوں کو ان کے حملوں کے سبب سے مہار دی گئی لولا تَعافَیْنا تعاقُبَ سَبِّہم لرمیتُ سہم النار عند عُثانہم اگر ہم ان کی گالیوں کا جواب دینے سے کراہت نہ کرتے تو میں ان کے دخان کے مقابل پر آگ کے تیر چلاتا ما یظلم الأشرار إلا نفسہم ستری بندم القلب عَضَّ بنانِہم ظالم کسی پر ظلم نہیں کرتے مگر اپنے نفس پر سو تو عنقریب دیکھے گا کہ وہ دلی ندامت سے اپنی سرانگشت کاٹیں گے ظنّوا بأن اللّٰہ مخلِفُ وعدہ فبغوا بأرض اللّٰہ من طغیانہم انہوں نے خیال کیا کہ خدا تعالیٰ اپنا وعدہ نہیں پورا کرے گا تب وہ خدا تعالیٰ کی زمین میں اپنی بے اعتدالی کی وجہ سے باغی ہوگئے وقبولُ أمر الحق عارٌ عندہم صعبٌ علی السفہاء عطفُ عِنانہم سو حق کا قبول کرنا ان کے نزدیک عار ہے اور نادانوں پر حق کی طرف باگ پھیرنا سخت ہوگیا ہے سُودٌ کخافیۃ الغراب قلوبہم والخلْقَ مخدوعون من لمعانہم ان کے دل ایسے سیاہ ہیں جیسے کوے کے وہ پر جو پیٹھ کی طرف ہوتے ہیں اور خلقت ان کی ظاہری چمک سے دھوکا کھا رہی ہے فارؔ قُبْ إذا صاحبتَہم بمحبّۃٍ فتنًا بدینک عند اِسْتحسانہم پس جب تو ان کی صحبت اختیار کرے تو تجھے بباعث ان کے پسند رکھنے کے اپنے دین کے فتنوں کا امیدوار رہنا چاہئے ولقد دعوتُ الرب عند تناضُلی واللّٰہُ تُرْسی عند ضرب سِنانہم اور میں نے اپنے مقابلہ کے وقت اپنے رب کو بلایا اور ان کے نیزوں سے بچنے کے لئے خدا میری ڈھال ہے یا مستعانی لیس دونک مَلجأی فانصُرْ وأیِّدْنا لہدم قِنانہم اے میرے مددگار تیرے سوا میری کوئی پناہ نہیں پس مدد کر اور ان کے پہاڑوں کے توڑنے کے لئے ہماری تائید فرما یا من یعیّرنی بموت إلٰہہم أفلا ترٰی ما جَذَّ أصلَ إہانہم اے وہ شخص جو مجھے اس لئے سرزنش کرتا ہے کہ میں ان کے مصنوعی خدا یعنی حضرت عیسٰے کی موت کا قائل ہوں کیا تو دیکھتا نہیں کہ کس اعتقاد نے ان کی بیخکنی کی ہے واللّٰہِ إن حیاۃ عیسی حیّۃٌ تسعی لتُہلِک کلَّ مَن فی خانہم بخدا حضرت عیسیٰ کی زندگی ایک سانپ ہے وہ سانپ دوڑتا ہے تا ان سب کو قتل کرے جو ان کی سرائے میں ہیں جعَل المہیمن حکمۃً من عندہ فی موت عیسی قَطْعَ عرقِ جِرانہم خدا تعالیٰ نے اس بات میں حکمت رکھی ہے کہ حضرت عیسیٰ کی موت سے ان کا مذہب ذبح کیا جائے کیف الحیاۃ و قد تُوُفّیَ مثلہ حزبٌ وخیرُ الخَلق بعد زمانہم یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ حضرت عیسٰے زندہ ہوں حالانکہ ان سے پہلے جتنے نبی آئے وہ فوت ہو گئے ہیں اور جو سب سے بہتر تھا اور پیچھے سے آیا وہ بھی فوت ہوگیا ہل غادرَ الحتفُ المفاجئ مرسلًا أم ہل سمعتَ الحیّ من أقرانہم کیا اچانک پکڑنے والی موت نے کسی رسول کو بھی چھوڑا یا تو نے کبھی سنا کہ ان کے ہم رتبوں میں سے کوئی زندہ رہا أ تغیظُ ربَّک لابن مریم حِشنۃً وتحید عن مولی إلی إنسانہم کیا تو اپنے رب کو ابن مریم کے لئے غصہ دلاتا ہے کیا کچھ کینہ ہے اور مولیٰ کریم سے تو دور ہوکر عیسائیوں کے انسان کی طرف جاتا ہے فاطلُبْ ہُداہ وما أخالُک تطلبُ فَاخْسَأْ وکُنْ منہم ومن إخوانہم سو تو اللہ کی ہدایت کو ڈھونڈ اور مجھے امید نہیں کہ تو ڈھونڈے پس دفع ہو اور عیسائیوں میں سے اور ان کے بھائیوں میں سے ہو جا یا مَن تظنّی البولَ ماءًً باردًا أخطأتَ مِن جہلٍ بِاِسْتِسْمانہم اے وہ شخص جس نے بول کو ٹھنڈا پانی سمجھ لیا تو نے اپنی نادانی سے خطا کی اور لاغروں کو موٹا خیال کیا یا ربِّ أَرِنی یومَ کسرِ صلیبہم یا ربّ سلِّطْنی علی جدرانہم اے میرے رب صلیب کا ٹوٹنا مجھے دکھلا اے میرے رب ان کی دیواروں پر مجھ کو مسلط کر فإذؔ ا تکلَّمْنا فسیفٌ قولُنا رمحٌ مبید لا کمِثل بیانہم اور جب ہم کلام کریں تو ہماری کلام ایک تلوار ہے ایک نیزہ ہلاک کرنے والا ہے نہ ان کے بیان کی طرح ولقد أُمرتُ من المہیمن بعدما ہاجت دخان الفتن من نیرانہم اور میں خدا کی طرف سے مامور ہوں اس وقت کے بعد جو پادریوں کی آگ سے دھوئیں اٹھے ما قلت بل قال المہیمن ہکذا ما جئتُہم بل جاء وقت ہوانہم یہ میں نے نہیں کہا بلکہ خدا تعالیٰ نے اسی طرح کہا میں ان کے پاس نہیں آیا بلکہ ان کی ذلت کا وقت آگیا طورًا أحارب بالسہام وتارۃً أَہوی بأسیاف إلٰی إثخانہم کبھی میں ان سے تیروں کے ساتھ جنگ کرتا ہوں اور کبھی میں اپنی تلواروں کے ساتھ ان کے قتل کثیر کی طرف توجہ کرتا ہوں بمہنّدٍ صافِ الحدید جذمتُہم وعصایَ قد أفنَتْ قُوَی ثعبانہم نہایت عمدہ تلوار سے میں نے ان کو کاٹ دیا ہے اور میرے عصا نے ان کے سانپ کی تمام قوتیں فنا کر دیں روحی بروح الأنبیاء مضمَّخٌ جادتْ علیّ الجَودُ من فیضانہم میرا روح انبیاء کی روح سے معطر کیا گیا ہے اور ان کے فیضان کا ایک بڑا مینہ میرے پر برسا إنّا نرجّع صوتنا بغناۂم إنّا سُقینا من کؤوس دِنانہم ہم انہیں کے گیت کو سُروں کے ساتھ گاتے ہیں ہم انہیں کے پیالوں میں سے پلائے گئے ہیں قوم فنوا فی سبلِ مَربَعِ ربّہم والعُمی لا یدرون مطلع شأنہم وہ ایک قوم ہے جو خدا کی راہ میں فنا ہوگئی اور اندھے ان کی شان کے مطلع کو نہیں دیکھتے کم من شریر أُہلکوا بعنادہم ورأوا مُدَی نحرٍ وراء کُبانہم بہت شریر ہیں جو بوجہ ان کے عناد کے ہلاک کئے گئے اور اپنی بیماری کے بعد ذبح کرنے کی کار دیں انہوں نے دیکھ لیں وسیُرغِم اللّٰہُ القدیر أنوفہم ویُری المہیمن ذُلَّ داءِ خُنانہم عنقریب خدا تعالیٰ ان کی ناکوں کو خاک میں ملائے گا اور ان کی ناک کی بیماری کی ذلت دکھاوے گا الیوم قد فرحوا برجسِ تنصُّرٍ والحق لا یخطو إلٰی آذانہم آج وہ لوگ نصرانیت کی ناپاکی سے خوش ہو رہے ہیں اور سچائی ان کے کانوں کی طرف قدم نہیں بڑھاتی قوم تمیل مع الہوی أفکارہم وعفَتْ نقوشُ الصدق من حیطانہم یہ ایک قوم ہے جن کے فکر نفسانی خواہش کے ساتھ جھک پڑتے ہیں اور سچائی کے نقش ان کی دیواروں سے مٹ گئے ہیں ظہرؔ ت کأثر السمّ ثورۃُ وعظہم رحلتْ تُقاۃ الخَلق من إدجانہم زہر کے اثر کی طرح ان کے وعظ کا جوش ظاہر ہے ان کے مقام سے لوگوں کی پرہیز گاری کوچ کر گئی ہل شاہدتْ عیناک قومًا مثلہم أم ہل سمعتَ نظیرہم فی ذانہم کیا ایسی قوم تُو نے کوئی اور بھی دیکھی یا ان کے عیب میں اُن کی کوئی دوسری نظیر بھی سنی بطریقۃٍ سنّتْ لہم آباؤہم یدعو إلی الجَہْلات صوت کِرانہم اس طریق سے جو ان کے باپ دادوں نے مقرر کیا ہے ان کا طنبور باطل باتوں کی طرف بلا رہا ہے فکأنّ أبواب المکائد کلہا فُتحتْ لفتنتنا علٰی رُہبانہم پس گویا کہ تمام فریبوں کے دروازے ان پر اس لئے کھولے گئے کہ تا ہمارا امتحان ہو قد آثروا طرق الضلال تعمّدًا ما زاد خسران علٰی خُسرانہم گمراہی کی تمام راہوں کو پسند کر لیا جس ٹوٹے میں وہ پڑے ہیں اس سے بڑھ کر کوئی اور ٹوٹا نہیں إن الصلیب سیُکْسَرَنْ ویُدَقَّقَنْ جاء الجِیادُ وزہَق وقتُ أتانہم صلیب تو عنقریب ٹوٹ جائے گا گھوڑے آئے اور گدھیاں بھاگیں الکذب مجبنۃٌ لکل مُباحث لکنہم ترکوا حیاء جنانہم جھوٹ بولنا ہریک بحث کرنے والے کے لئے بد دلی کا باعث ہوتا ہے مگر انہوں نے تو اپنے دل کا حیا ترک کر دیا سمٌّ مبید مہلکٌ فی لبنہم مَکْرٌ مُضِلُّ الخَلقِ فی ہَدَجانہم اُن کے دودھ میں زہر ہے جو ہلاک کرنے والی اور مارنے والی ہے ان کی پیرانہ رفتار میں ایک مکر ہے جو خلقت کو گمراہ کرنے والا ہے فارْبَأْ بدینک عند رؤیۃ وجہہم واقنَعْ بشَوکٍ مِن جَنی بستانہم پس جب تو ان کو ملے تو اپنے دین کی نگرانی رکھ اور ان کے باغ کے پھل سے بیزار ہوکر کانٹے پر قناعت کر الموت خیر للفتٰی من خبزہم فاصبرْ ولا تجنَحْ إلی تَہْتانہم جوانمرد کے لئے مرنا ان کی روٹی سے بہتر ہے پس صبر کر اور ان کی ایک ساعت کے مینہہ کی طرف مت جھک و نضارۃ الدنیا تزول بطرفۃٍ فاقنَعْ ولا تنظُرْ إلی أفنانہم اور دنیا کی تازگی ایک دم میں دور ہوجاتی ہے سو قناعت کر اور ان کی شاخوں کی طرف نظر مت کر النار تسقط کالصواعق عندہم فتجافَ یا مغرورُ عن أحضانہم آگ ان کے پاس بجلی کی طرح گر رہی ہے پس ان کے کناروں سے اے دھوکا کھانے والے ایک طرف ہو جا أینؔ المفرّ من القضاء إذا دنا إلّا إلٰی رَبٍّ مُزیلِ قِنانہم تقدیر سے کہاں بھاگیں جب آگئی صرف خدا تعالیٰ کی پناہ ہے جو ان کے ٹیلوں کو دور کرے گا یَسْبون جہّالًا برقّۃ لفظہم یُصْبون قلب الخَلق من إحسانہم جاہلوں کو اپنی نرمی سے غلام بنا لیتے ہیں اور اپنے احسانوں سے خلقت کے دل اپنی طرف کھینچتے ہیں فلذا یُحِبُّ مزوِّرٌ أدیارَہم مِن شحّہ میلًا إلی مرجانہم اسی لئے ایک مکار ان کے گرجاؤں سے پیار کرتا ہے اپنے لالچ سے ان کے موتی کی خواہش سے ولو انتقدتَ جموعہم فی دَیرہم لوجدتَ سقطًا شیخہم کعَوَانہم اور اگر تو ان کے گرجاؤں میں ان کی جماعتوں کو پَرکھے تو ان کے بڈھے کو ایسا ہی ردی پائیگا جیسا کہ ان کے درمیانی عمر والے کو ما الفرق بین المشرکین وبینہم بل ہم بنوا قصرًا علی بنیانہم ان میں اور مشرکین میں فرق کیا ہے بلکہ انہوں نے تو مشرکوں کی بنیاد کو ایک محل بنا دیا یہوی إلیہم کلُّ نِکْسٍ فاسقٍ لیبیت شَبْعانًا بلحم جِفانہم ہر یک ضعیف فاسق اُن کی طرف گرتا ہے تا ان کے پیالوں کے گوشت سے پیٹ بھر کے رات گذارے فی قلبنا وجعٌ وشوکُ دعابۃٍ من نَخْزِہم خبثًا وطولِ لسانہم ہمارے دل میں ایک درد اور ان کے ٹھٹھوں کی وجہ سے ایک کانٹا ہے کیونکہ انہوں نے اپنی زبان درازی اور خبث سے ہمارے دل کو خستہ کیا ما إنْ أری أثر الدلائل عندہم أصبَوا قلوبَ الخلق من عِقیانہم میں ان کے پاس دلائل کا نشان نہیں دیکھتا لوگوں کے دل اپنے سونے کی وجہ سے کھینچ لیے ہیں قد عاث فی الأقوام ذئب شیو!خہم حدثتْ فنون الفسق مِن حدثانہم ان کے بڈھوں کے بھیڑئیے نے قوموں میں تباہی ڈالی اور ان کے جوانوں سے طرح طرح کے فسق پھیلے تعریسہم آثارُ عزمِ رحیلہم یُخفُون فی الأرْدان حبلَ ظِعانہم رات کو اترنا ان کے کوچ کی نشانی ہے اور اپنی آستینوں میں لمبے رسے اسباب باندھنے کے چھپا رکھے ہیں عارٌ علی الفَطِن الزکیّ طعامُہم ضارٌ لخلق اللّٰہ ماءُ شِنانہم ایک دانا پاک طبع پر عار ہے کہ ان کا کھانا کھاوے اور خلق اللہ کے لئے ان پرانی مشکوں کا پانی مضر ہے للمرء قربُ المؤذیات جمیعہا خیرٌ لحفظ الدین من قربانہم انسان کے لئے تمام موذی جانوروں کا قرب اُن کے قرب سے اپنا دین بچانے کے لئے بہتر ہے لکؔ کلَّ یومٍ ربِّ شأنٌ معجِبٌ فانصُرْ عبادک ربّ فی میدانہم اے میرے رب ہر یک دن تیری عجیب شان ہے سو تُو اپنے بندوں کی ان کے میدان میں مدد کر نَقنِی التضرّعَ والبکاء تصبّرًا نأوی إلی الرّحمٰن من رُکبانہم ہم صبر کر کے تضرع اور رونے کو لازم پکڑتے ہیں اور ان کے سواروں سے ہم خدائے تعالیٰ کی پناہ لیتے ہیں لِلّٰہِ سہمٌ لا یطیش إذا رمٰی للحقِّ سلطان علی سلطانہم خدا کا وہ تیر ہے کہ جب چھوٹا تو خطا نہیں جاتا اور خدا کا قہر ان کے قہر پر غالب ہے أَنزِلْ جنودک یا قدیرُ لنصرنا إنا لقِینا الموت من لُقْیانہم اے قادر ہمارے لے اپنا لشکر اتار کیونکہ ہم ان کے ملنے سے موت کو ملے