التفسیر من بعض الصحابۃ أن طیر عیسٰی ما کان یطیر إلا أمام أعین الناس، فإذا غاب سقط علی الأرض ورجع إلی أصلہ کعصا
موسٰی، وکذٰلک کان إحیاء عیسی، فأین الحیاۃ الحقیقی؟ فلأجل ذلک اختار اللّٰہ تعالی فی ہذا المقام ألفاظًا تناسب الاستعارات لیشیر إلی الإعجاز الذی بلغ إلی حدّ المجاز، وذکر مجازًا لیُبیّن إعجازًا، فحملہ
الجاہلون المستعجلون علی الحقیقۃ، وسلکوہ مسلکَ خَلْق اللّٰہ مِن غیر تفاوت، مع أنہ کان مِن نفخ المسیح وتأثیر روحہ مِن غیر مقارنۃ دعاء*، فہلکوا وأہلکوا کثیرا من الجاہلین۔ والقرآن لا یجعل شریکا فی
خلق اللّٰہ أحدًا ولو فی ذباب أو بعوضۃ، بل یقول إنہ واحد ذاتًا وصفاتًا، فاقرء وا القرآن کالمتدبرین۔ فالأمر الذی ثبت عقلا ونقلا واستدلال
کرتے ہیں جو بعض صحابہ سے تفسیروں میں بیان ہوئے ہیں اور
وہ یہ کہ عیسیٰ کا پرندہ اسی وقت تک پرواز کرتا تھا جب تک کہ
وہ لوگوں کی نظروں کے سامنے رہتا تھا اور جب غائب ہوتا تھا تو گر جاتا تھا اور اپنی اصل کی طرف رجوع کرتا تھا جیسے
عصا
موسیٰ کا اور عیسیٰ کا مردوں کو زندہ کرنا بھی ایسا ہی تھا سو اس جگہ حیات حقیقی کہاں ثابت ہوئی سو اسی لئے
خدا تعالیٰ نے اس مقام میں وہ لفظ اختیار کئے جو استعارات کے مناسب حال تھے
تاکہ اس اعجاز کی طرف اشارہ کرے جو
مجازکی حد تک پہنچا تھا اور مجاز کو اس لئے ذکر کیا کہ تا ان کے معجزہ کو جو خارق عادت تھا بیان فرماوے پس اس مجاز کو
جاہلوں نے حقیقت پر
حمل کر دیا اور ایسے مرتبہ میں داخل کیا جو الٰہی پیدائش کا مرتبہ ہے حالانکہ وہ صرف
نفخ مسیح اور اس کی روح کی تاثیر سے تھا اور اس کے ساتھ کوئی دعا نہیں تھی سو ایسے سمجھنے والے
ہلاک ہوئے
اور بہتوں کو جاہلوں میں سے ہلاک کیا۔ اور قرآن تو کسی کو خدا کی خالقیت میں شریک نہیں کرتا اگرچہ ایک
مکھی بنانے یا ایک مچھر بنانے میں شراکت ہو بلکہ وہ کہتا ہے کہ خدا ذاتاً
و صفاتاً واحد لا شریک ہے سو تم قرآن کو
ایسا پڑھو جیسا کہ تدبر کرنے والے پڑھتے ہیں۔ سو جو امر عقلاً و نقلًا و استدلالًا ثابت ہو گیا۔
الفائدۃ)کان الاحیاء بالنفخ کالاما تۃ بالنظر پھونک سے زندہ
کرنا ایسا تھا جیسے نظر سے مارنا۔ منہ