صار الزمان کلیلۃ حالکۃ الجلباب ہامیۃ الرَّباب، ترکوا طریق الخیر المأثور، ودعَوا إلی الویل والثبور، ثم صار الکذب عادتہم،
وإشاعۃ الفسق سیرتہم، وتوہین المقدسین خصلتہم، ومالُ الإعانات جَرّتہم۔ لا یبالون صغیرۃ ولا کبیرۃ، ولا یتقون جرأۃ ولا جریرۃ، ویفتِنون قلوب الناس بأنواع الوَسواس، أو ینطقون بالبہتان علی رسل
الرحمن۔ وشِنْشِنتُہم الانتقالُ مِن صید إلی صید، والرجوعُ من کید إلی کید، فتارۃ یُرُون النساءَ ، وطورا بیضاءَ وصفراء ، ومرۃً مِیاءَہم الغِزار، وأخری الأشجارَ والثمار۔ فنشَب الجہّالُ فی شبکتہم، والفسّاق فی
ہوّتہم، ونسَلوا مِن کل حدبٍ مصطادین
زمانہ ایسا ہوگیا جیسی کہ اندھیری رات جس کا بادل برس رہا ہے انہوں نے اس بھلائی کے طریق کو
چھوڑ دیا جو مسلسل چلی آتی تھی اور موت اور ہلاکت
کی طرف لوگوں کو بلایا۔ جھوٹ ان کی عادت ہوگیا
اور فسق ان کی سیرت ہو گیا اور پاکوں کی توہین کرنا ان کی خصلت ہو گئی اور چندہ کا روپیہ ان کا
جال ہوگیا نہ صغیرہ سے ڈریں اور نہ کبیرہ
سے نہ دلیری سے اور نہ گناہ سے
تا اور لوگوں کو قسما قسم کے وساوس سے فتنہ میں ڈالیں اور خدا تعالیٰ کے پیغمبروں پر بہتان
باندھتے ہیں اور ان کی خصلت یہ ہے کہ ایک شکار سے فارغ
ہوکر دوسرے شکار کی طرف جائیں اور
ایک مکر سے دوسرے مکر کی طرف رجوع کریں بعض وقت عورتیں دکھاتے ہیں اور بعض وقت سونا اور چاندی اور
کبھی اپنے پانی کی کثرت اور کبھی
درخت اور کبھی پھل۔ سو ان کے جال میں اکثر جاہل پھنس گئے اور اکثر فاسق
ان کے گڑھے میں جا گرے اور وہ ہریک بلندی سے شکار کرنے کے لئے دوڑے۔
اُنظُرْ إلی المتنصّرین وذانِہمْ
وانظُرْ إلی ما بدأ مِن أدرانہمْ
عیسائیوں کو دیکھو اور ان کے عیبوں کو
اور ان میلوں کو دیکھ جو ان سے ظاہر ہوئیں
مِن کل حدب ینسِلون تشذّرًا
وینجّسون الأرض من أوثانہم