ہذہ الصَّفات وقریع ہذہ الصفات، بل نجدکم حریصین علی الضرّ، وراغبین فی إیصال الشرّ۔ تسبّون الأخیار، وتلعنون الأبرار،
وتختالون من الزہو، وتنصبّون إلی اللَّہو، وما تنصرتم إلا لتکونوا ذوی جُرْدٍ مربو!طۃ وجِدَۃٍ مغبوطۃٍ، ولتمیسوا فی رِیاش، وتتخلصوا من فکر معاش، وتجدوا ما تشتہی الأنفس وتتلذّ الأعین، ولتتجنّوا قطوف
اللذؔ ات فارغین۔ وواللّٰہ إن فسق النصاری قد عظم فی الدیار، وأخنوا علی الناس بأنواع التبار۔ اتّسخت أبدانہم من أوساخ الذُنوب، فما مالوا إلی الذَنوب، وبلغ أمرہم من کثرۃ الأدران إلی الحِمام، فما عجُّوا إلی
الحَمّام، وصاروا بادیَ الجردۃ کالأنعام، فما آلوا إلی حلل الإنعام، وأحبوا الذہبَ، والإیمانُ فرَّ وذہَب، فأکبّوا علی الدنیا خائنین۔ وکذلک زادت منہم سموم الطغیان، ورکدت ریح الإیمان، حتی
ہم کو حلم سکھایا
گیا ہے اور صلح کاری کی تعلیم ہوئی ہے مگر ہم تم میں ایسا شخص نہیں پاتے جو اس تعلیم کے پتھر کو ٹھوکنے والا اور ان صفتوں کا مالک ہو بلکہ ہم تو تم کو دکھ دینے پر حریص پاتے اور شرارت
کرنے پر راغب دیکھتے ہیں تم نیکوں کو گالیاں دیتے اور راستبازوں پر *** بھیجتے ہو اور تمہارے ناز کی چال میں تکبر بھرا ہوا ہے اور لہو لعب کی طرف گرے جاتے ہو اور عیسائی ہونے سے
تمہاری یہی غرضیں ہیں کہ تمہارے طویلوں میں گھوڑے ہوں اور قابل رشک دولت مندی تم کو حاصل ہو اور لباس فاخرہ میں تم لٹکتے پھرو اور معاش کی فکر سے فارغ ہو جاؤ اور تم کو وہ سب چیزیں
مل جائیں جن کو تمہارے نفس چاہتے ہیں اور جن سے تمہاری آنکھیں لذت حاصل کرتی ہیں اور تاکہ اپنی لذتوں کے چنے ہوئے پھل فارغ بیٹھ کر کھاؤ۔ اور بخدا نصاریٰ کا فسق ملکوں میں بڑھ گیا ہے
اور قسم قسم کی ہلاکت میں لوگوں کو ڈال دیا ہے ان کے بدن گناہوں کی میل سے میلے ہو گئے مگر انہوں نے نہ چاہا کہ پانی کا بھرا ہوا بوکا ان کو ملے اور میلوں کی کثرت سے ان کی نوبت موت تک
پہنچی پس انہوں نے حمام کی طرف رغبت نہ کی اور چارپاؤں کی طرح ننگے ہو گئے اور انعام کے لباس کی طرف توجہ نہ کی اور سونے سے پیار کیا اور ایمان بھاگ گیا سو دین سے نومید ہوکر دنیا پر
گرے اور اسی طرح ان سے گمراہی کی زہریں پھیلیں اور ایمان کی ہوا تھم گئی یہاں تک کہ