فنہضتُ أنصَحہم وکیف نصاحتی
قومًا أوابدَ معجَبین کضیطَرِ
پس میں گالیاں دینے والوں کو نصیحت کرنے کے لئے اٹھا اور
میرا نصیحت دینا
ایسی قوم کو کیا مفید ہوسکتا تھا جو ایک وحشی اورخودبیں اور فرو مایہ اور بے خبر آدمی کی طرح ہے
قد غُودِرَ الإسلام مِن جہلا تہم
وخلَتْ أماعزُ عن سحابٍ ممطرِ
عوام
نادان نے ان کے باطل وساوس سے اسلام کو ترک کر دیا
اور وہ پتھریلی زمین برسنے والے بادل سے محروم رہ گئی
شاؔ قت قلوبَ الناس ظُعْنُ جِیاۂم
فتأبّطوا بُرَحاءَ ہم بتخیُّرِ
لوگوں کے دلوں
کو ان ہودج نشینوں نے شوق دلایا جو ان کی ہنڈیوں کے سر پوش کے اندر تھیں
سو انہوں نے ان کی بلا کو دیدہ دانستہ بغل میں لے لیا
زُجَلٌ عمون منجّسو عرصاتِنا
فَجَأَتْ طوائحُہم کذِیْبٍ
مُبکِرِ
اندھی جماعتیں ہیں جو ہمارے ملک کو پلید کر رہی ہیں
ان کے حوادث ناگاہ ہم پر بڑے اور وہ ایسے آئے جیسا کہ بھیڑیا فجر کے وقت شکار کے لئے نکلتا ہے
والعین باکیۃ ولیس
بکاؤنا
شیءًا سِوی الفضل المنیر المسفِرِ
آنکھ تو رو رہی ہے مگر ہمارا رونا کچھ حقیقت نہیں رکھتا
بجز اس فضل کے جو روشن کرنے والا اور صبح کے وقت آنے والا ہے
إن البلایا لا یرُدُّ
رِکابَہا
إلا یدا ملِکٍ قدیر أکبرِ
بلاؤں کے اونٹ سواروں کو کوئی رد نہیں کر سکتا
مگر اس بادشاہ کے دونوں ہاتھ جو قدیر اور اکبر ہے
إن المہیمن لا یُضِیع عبادہ
فَافْرَحْ ولا تحزنْ بوقتٍ
مُضجِرِ
خدا اپنے بندوں کو ضائع نہیں کرے گا
سو تو خوش ہو اور ایسے وقت میں جو دل کو تکلیف دینے والا ہے غمگین مت ہو
أیہا المتنصّرون والعادون العمون لقد جئتم شیءًا إدًّا، وجُزتم عن
القصد جدًّا۔ تعبدون من مات وفاتَ، وعظّمتم العظام الرُّفاتَ، وغمصتم الصادقین۔ وفیکم مَن إذا کُلِّمَ کَلَّمَ، وإذا سُلِّمَ ثَلَّمَ۔ تقولون إنا لُقِّنّا الحلمَ، وعُلِّمْنا السلمَ، ولکنا لا نجد فیکم قارع
اے عیسائیو اور حد سے تجاوز
کرنے والے اندھو تم ایک عجیب بات لائے اور یقیناً تم نے راہ راست کو چھوڑ دیا
تم نے اس کو خدا پکڑا جو مر گیا اور گذر گیا اور بوسیدہ ہڈیوں کی تعظیم کی
اور صادقوں کا تم نے عیب پکڑا اور
تم میں ایسے شخص بھی ہیں کہ جب ہمکلام ہوں تو بدگوئی سے دلوں کو آزار
پہنچاویں اور جب بدی کا جواب نہ دیا جاوے اور بے گزند رکھا جائے تو اور بھی رخنہ ڈالیں۔ اپنی زبان سے تو یہ کہتے
ہو کہ