منہم خبیث مفسد متفاحش أُخبِرتُ عنہ ولیتنی لم أُخبَرِ ان میں سے ایک خبیث مفسد بدگو دشنام دہ ہے مجھے اس کی اطلاع دی گئی ہے کاش کہ نہ دی جاتی یعنی اس کا وجود ہی نہ ہوتا غُوؔ لٌ یسبّ نبیَّنا خیرَ الورٰی لُکَعٌ ولیس بعالم متبحّرِ ایک شیطان ہے جو ہمارے نبی افضل المخلوقات کو گالیاں دیتا ہے سفلہ نادان فرومایہ ہے اور ایسا نہیں ہے کہ کوئی عالم متبحر حقائق کی تہ تک پہنچنے والاہو یا غُولَ بادیۃِ الضلالۃ والہویٰ تہذی ہوًی مِن غیر عینِ تبصُّرِ اے گمراہی اور حرص کے جنگل کے شیطان تُو محض ہوا پرستی سے بکواس کر رہا ہے اور معرفت کی آنکھ تجھ کو حاصل نہیں قطّعتَ قلب المسلمین جمیعہم کم صارم لک یا عَبِیطُ وخنجرِ تو نے تمام مسلمانوں کا دل ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اے دروغگو جنگجو ہمیں یہ تو بتلا کہ تیرے پاس کتنی تلواریں اور خنجر ہیں إنا تصبَّرْنا علی إیذائکم والنفس صارخۃ ولم تتصبرِ ہم نے تو تمہارے دکھ دینے پر بتکلف صبر کیا مگر جان فریاد کر رہی ہے اور صبر نہیں کر سکتی إنا نری فتنًا تذیب قلوبنا إنا نری صورًا تہولُ بمنظرِ ہم وہ فتنے دیکھ رہے ہیں جو دلوں کو گلاتے ہیں ہم وہ منہ دیکھ رہے ہیں جو ہمیں ڈراتے ہیں جاء وا کمفترس بنابٍ داعسٍ دحسًا ککلب نابح متشذّرِ وہ ایک شکار مارنے والے کی طرح نیزہ مارنے والے دانتوں کے ساتھ آئے قوم میں تفرقہ ڈالنے والے ہیں اس کتے کی طرح جو آواز کرتا اور حملہ کرنے کے لئے دم اکٹھی کر لیتا ہے کانوا ذیابًا ثم وجدوا سَخْلۃً فی البرّ منفردًا أسیرَ تحسُّرِ وہ تو بھیڑیئے تھے سو انہوں نے جنگل میں ایک اکیلا برہ پایا جو ماندگی کا مارا ہوا تھا وتری بطون المفسدین کأنہا قِربٌ بما نالوا کمالِ تعَجُّرِ اور مفسدوں کے پیٹوں کو تو دیکھتا ہے کہ گویا وہ مشکین ہیں کیونکہ پیٹ اتنے بڑھ گئے کہ ان میں بل پڑتے ہیں حاذت مطایاہم علی أعناقنا حتی تکسّرنَا کعظمٍ أنخَرِ انہوں نے اپنی سواریوں کو ہماری گردنوں پر سخت دوڑایا یہاں تک کہ ہم بوسیدہ ہڈی کی طرح ہوگئے فاض العیون من العیون کأنہا ماء جری من عَنْدَمٍ متعصّرِ آنکھوں سے چشمے جاری ہوگئے گویا کہ وہ دم الاخوین کا پانی ہے جو اس کے نچوڑنے کے وقت چک رہا ہے