قومًا آخرین۔ فسألوا عنہ سرَّ ہذا التخصیص وحکمۃَ تحدید ہذا التبصیص، فأقسمَ بالأقنوم الذی یجیر الجانی أنہ ضاہا فی ہذہ العادۃ
بالأقنوم الثانی، وجعلہم کالمسیح من المتفردین۔ ثم شمّر ذیلہ لیطیر کالعقاب، فغدا بإزعام الذہاب ولا اغتداءََ الغراب، وقال لہم عند الفرار یا سادات الأمصار وصنادید الدیار، سآتیکم إلی نصف النہار،
فانتظِرؔ ونی قلیلًا من الانتظار، ولا تأخذکم شیء من الاضطرار، فإن الرُقْیۃ طویلۃ والبُغْیۃ جلیلۃ، والطبیعۃ علیلۃ، والمسافۃ بعیدۃ، والبرودۃ شدیدۃ، وما کنت أن أشقّ علی نفسی فی ہذا الضُّعف والنحافۃ،
وما أجد فی بدنی قوّۃَ قطع المسافۃ، وإنی نبذت عُلَق الدنیا کلہا، وترکت کُثْرَہا وقُلَّہا، وما یسرّنی إلا ذکر المسیح ربّ العالمین ( لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین
سکھاؤں گا۔ پس انہوں نے اس تخصیص کا بھید اس
سے دریافت کیا اور اس چمک کے محدود رکھنے کی حکمت پوچھی پس اس نے اس اقنوم کی قسم کھائی جو گناہ گارکو گناہ سے خلاصی بخشتا ہے کہ وہ اس عادت میں اقنوم ثانی سے مشابہ ہے۔ یعنے
جیسے اقنوم ثانی نے حضرت عیسٰے سے پہلے کسی اور سے تعلق نہیں کیا نہ بعد میں کرے گا ایسا ہی اس نے اس قوم سے یہ تعلق پیدا کیا اور کہا کہ میں نے اقنوم ثانی کی طرح ہو کر تمہیں مسیح
کی طرح اپنے تعلق سے خاص کر دیا ہے پھر اس نے اپنا دامن اکٹھا کیا تاکہ عقاب کی طرح اڑ جائے پس اس نے چلے جانے کی نیت سے صبح کی ایسی صبح کہ کبھی کوے نے بھی نہ کی ہو اور
بھاگنے کے وقت ان کو کہنے لگا کہ اے شہروں کے سردارو اور ولائیتوں کے رئیسوں میں دوپہر تک تمہارے پاس آؤں گا سو تم نے کچھ تھوڑی سی میری انتظار کرنا اور تمہیں کچھ بے قراری نہ ہو
کیونکہ منتر بہت لمبا ہے اور مطلب بہت بڑا ہے اور مراد بہت بڑی ہے اور طبیعت بیمار ہے اور دور جانا ہے اور سردی بہت پڑتی ہے اور میرا دل نہیں چاہتا کہ اس ضعف اور پیرانہ سالی میں یہ
مشقت اپنے پر اٹھاؤں اور میرے بدن میں یہ قوت بھی نہیں کہ اتنی دور جا سکوں اور میں دنیا کے تمام علاقے چھوڑ بیٹھا ہوں اور مجھے بجز اس کے کچھ اچھا دکھائی نہیں دیتاجو مسیح کا ذکر کرتا
رہوں جو رب العالمین ہے۔
ولٰکنّی کلّفت نفسی لکم بما رأیتکم من قبائل الشرفاء ووجدتکم کأطلال الأمراء وفی الضرّاء بعد النعماء ، وبما تحقّقت المصافاۃ وانعقدت المودّات، فہاجت رحمتی وماجت
شفقتی، وجذبنی بَخْتُکم المحمود ونجمکم المسعود، فأردت أن أجعلکم کالسلاطین۔ وسأرجع إلیکم مع الجَنی الملتقط، فانتظِروا بالقلب المغتبط، سترون بیضاء وصفراء کحلیلۃ جمیلۃ زہراء ، وأُوافیکم کالمبشّرین
المستبشرین۔ فذہب وترکہم مغبونین۔ فما فہموا أنہ غَرَّ وطلب المفرّ، وفرحوا بتصور حصول المراد، ولبثوا یرقبونہ رِقبۃَ أہلّۃ الأعیاد، وینتظرونہ انتظارَ أہل الوداد متنافسین، إلی أن تلبست الشمس کالمتندمین
نقابَہا، وسوّدت کالمحزونین ثیابہا، وألغتْ کالمخدوعین حسابہا، واختفتْ بوجہؔ مصفرّ کالمنہوبین
مگر میں نے تمہارے لئے یہ کلفت اٹھائی کیونکہ میں نے شریف قبیلوں میں سے تمہیں پایا اور
میں نے دیکھا کہ تم امیروں کے باقی ماندہ نشان اور بعد نعمت کے سختی میں پڑے ہو اور اس لئے بھی کہ ہم میں اورتم میں
بہت پیار ہوگیا ہے اور دوستانہ ربط ہوچکا ہے سو میری رحمت اور
شفقت تمہارے لئے اٹھی
اور موجزن ہوئی اور تمہارے طالع محمود اور نیک ستارہ نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا سو میں نے چاہا کہ
تمہیں بادشاہ کی طرح بنا دوں۔ اور میں عنقریب تازہ چنا ہوا
میوہ لے کر تمہارے پاس آؤں گا سو آرزو مند دل
کے ساتھ میرے منتظر رہو عنقریب تم سونے اور چاندی کے ایسے جلوہ کو دیکھو گے جیسے کہ ایک خوبصورت
عورت سامنے آجاتی ہے۔ سو
اس نے یہ کہا اور چلا گیا اور ان کو ٹوٹے میں چھوڑ گیا۔ سو انہوں نے نہ سمجھا کہ
وہ دھوکا دے گیا اور بھاگ گیا اور مراد ملنے کے تصور میں وہ خوش ہوئے اور اسی جگہ ٹھہرا کر ایسے طور
سے اس کی
انتظار کرتے رہے جیسا کہ عید کے چاند کی انتظار کی جاتی ہے اور جیسا کہ دوست دوست کا منتظر ہوتا ہے یہاں تک کہ
سورج نے شرمندوں کی طرح اپنا منہ چھپا لیا اور ماتم زدہ
اور سخت غم ناک لوگوں کی طرح سیاہ کپڑے پہن لئے
اور اپنے وجود کو دھوکا کھانے والوں کے مال کی طرح حساب سے نظر انداز کر دیا اور منہ زرد کے ساتھ ایسا چھپا جیسا کہ وہ
فلما
طال أمد الانتظار، وتجاوز الوقت من موعد المکّار، وأضاعوا فی رِقبۃ الزمانَ، وبانَ أن الرجل قد مانَ، نہضوا کالمجانین، وسعوا إلی کل طرف مفتّشین، وعدَوا إلی الیمین والیسار مرتعدین، بتصوُّر الحلی الکبار
وفِکْرِ ہتک الأستار۔ فلما استیأَسوا منہ کالثکلی سقطوا کالموتی، وأکبّوا علی وجوہہم باکین، وعرفوا أنہم قد خُدعوا بل جُدعوا ومن القوم قُدعوا، فضربوا علی خدودہم قائلین یا ویلنا إنا کنا منہوبین مخدوعین۔ ثم
ألقوا علی رؤوسہم غبار الصحراء ، وصعدت صرخہم إلی السماء ، وجمعوا الناس حولہم من شدۃ الجزع والفزع والبکاء ۔ فجاء ہم القوم مُہرَعین، فسألوا عن بلاءٍ نزل وجُرْحٍ ابتزل، وعن مصیبۃ مذیبۃ للقلوب
وداہیۃٍ مہیّجۃ للکروب، واستفسروا من تفاصیل المصیبۃ وکیفیۃ القصۃ۔ فعافُوا أن یبیّنوا خوفًا من طعن الناس والخزی بین
لوگ زرد رنگ ہو جاتے ہیں جن کے مال لوٹے جاتے ہیں پس جبکہ انتظار کا زمانہ
لمبا ہوگیا اور اس مکار کے وعدہ
سے وقت بڑھ گیا اور جبکہ بہت سا وقت انہوں نے انتظار میں ضائع کیا اور کھل گیا کہ وہ آدمی تو جھوٹ بول گیا تو
سودائیوں کی طرح اٹھے اور ہریک طرف
تلاش کرتے ہوئے دوڑے اور دائیں بائیں طرف دوڑتے ہوئے گئے اور بڑے زیوروں
کا خیال اور پردہ دری کا بھی فکر تھا پس جب کہ اس کے ملنے سے زن فرزند مردہ کی طرح نو امید ہو گئے
تو
روتے ہوئے اپنے مونہوں پر گرے اور سمجھ گئے کہ ہمیں دھوکا دیا گیا بلکہ ہمارا ناک کاٹا گیا اور
قوم سے ہم ہٹائے گئے تب انہوں نے اپنی گالوں پر یہ کہتے ہوئے طمانچے مارے ہمارے پر
واویلا ہم تو لوٹے گئے
دھوکا دیئے گئے پھر انہوں نے اپنے سروں پر جنگل کا گھٹا ڈال لیا اور ان کی فریاد آسمان تک پہنچ گئی
تب قوم ان کے پاس دوڑتی ہوئی آئی اور انہوں نے اس بلا سے نازل
ہوئی اور اس زخم سے جس کا شگوفہ نکلا
اور اس مصیبت سے جس نے دلوں کو گلایا اور اس حادثہ سے جس نے بے قراری پیدا کی
دریافت کیا اور مصیبت کی تفصیل دریافت کی اور اس قصہ
کی کیفیت پوچھی سو انہوں نے بیان کرنے سے دل چرایا کیونکہ وہ لوگوں کے لطن طعن اور خاص و عام
العوام والخواص، ومع ذلک کانوا صارخین۔ فقال القوم ما لکم لا ترقأ دمعتکم ولا تسکن
زفرتکم، أظُلِمْتم من قوم عادین؟ لِم تسترون الحقیقۃ وتزیدون الکربۃ، ألا ترون إلی لوعۃِ کرب المحبّین؟ فصاحوا صیحۃ المغبون، واستحیوا مِن إظہار الکمد المکنون، ثم بیّنوا القصّۃ وأبدوا الغُصّۃ، وماؔ کادوا
أن یبیّنوا، ولکن عجزوا عن إصرار المصرّین۔ فلامَہم کلُّ أحد من العقلاء ، ومطرت مِن کل جہۃٍ سہامُ العُذلاء ، فنکسوا رؤوسہم متندمین۔ وقال المعیّرون یا معشر الحمقاء وأئمۃ الجہلاء ، ألستم علِمتم أنہ جاء
کم فقیر بادی الخذلان، وعلیہ بُردانِ رثّانِ کالعُثان؟ فمن کان فی أطمار کیف یہبکم رِیاشَ أفخارٍ، وینجیکم من أسرِ أوطار؟ أما رأیتم علیہ أثر الإفلاس، فکیف شغفتم بہ أکنتم أنعاما أو من الناس؟ ثم کانت ہذہ
الخرافات بعیدۃ من قانون
میں رسوا ہونے سے ڈرے مگر باوجود اس کے فریاد کر رہے تھے۔ پس قوم نے کہا کیا سبب کہ تمہارے آنسو
نہیں تھمتے اور تمہاری چیخیں کم نہیں ہوتیں کیا تم پر کسی
ظالم نے ظلم کیا کیوں تم حقیقت کو چھپاتے
اور اپنے دوستوں کی بے قراری کو زیادہ کرتے ہو۔ پس انہوں نے پھر ایک چیخ ماری جو ایک زیاں رسیدہ
مارتا ہے اور چھپے ہوئے غم کے ظاہر کرنے
سے شرم کی پھر قصہ کو کھول دیا اور غصہ ظاہر
کر دیا اور نہیں چاہتے تھے کہ ظاہر کریں لیکن اصرار کرنے والوں کے اصرار سے عاجز آ گئے۔ پس ہریک
عقلمند نے ان کو ملامت کی اور
ملامت کرنے والوں کے ہریک طرف
سے تیر برسے۔ پس انہوں نے شرمندہ ہوکر سر جھکا لئے اور ملامت کرنے والوں نے کہا
کہ اے احمقو اور جاہلوں کے پیشواؤ کیا تمہیں معلوم نہیں تھا کہ
ایک محتاج تمہارے پاس آیا جس کی بے عزّتی کھلی کھلی تھی
اور اس پر پرانی چادریں دھوئیں کی طرح تھیں سو جو شخص آپ ہی پرانی چادریں رکھتا تھا وہ تمہیں لباس فاخرہ
کہاں سے دیتا اور
کیونکر تمہاری حاجت روائی کرتا کیا تم نے افلاس کے آثار اس میں نہیں پائے تھے
پھر کیوں تم اس کے فریفتہ ہو گئے کیا تم چار پائے تھے یا آدمی تھے پھر قطع نظر اس سے یہ باتیں بھی
ازقبیل
القدرۃ وخارجۃ من السنن المستمرۃ، فکیف قبِلتموہا وقائلَہا إن کنتم عاقلین۔
وکیف نسیتم تجارب الحکماء ، أکنتم أنعامًا أو کنشوانِ الصہباء مخمورین؟ وکیف ظننتم أنہ صدوق أمین مع أنہ خالفَ
الصادقین أجمعین؟ أما رأیتم أطمارہ؟ أما شاہدتم إزارہ؟ أما سمعتم من قبل قصصَ المکّارین؟ فلا تلوموا أحدًا ولوموا أنفسکم إنکم قد أہلکتم نسوانکم وإخوانکم وخلانکم وجیرانکم، فلیبکِ علی فہمکم من کان من
الباکین۔
ہذا مثل المسیحیین وکفّارتہم وجہلہم وغرارتہم، وما قلنا ذلک إلا نصاحۃً للّٰہ لقوم جاہلین۔ ولکن المسیح والصالحین من أصحابہ مبرَّؤون من ذلک المثل وخطابہ، وماؔ نتوجہ إلا إلی الخائنین
خرافات اور قانون قدرت سے بعید تھیں اور خدا تعالیٰ کی سنت مستمرہ سے دور تھیں پس اگر تم عقلمند تھے تو کیوں اس شخص کو اور اس کی باتوں کو قبول کر لیا۔
اور کیونکر تم نے حکیموں کے
تجارب کو فراموش کر دیا کیا تم چار پائے تھے یا شراب سے مست تھے
اور تم نے کیونکر جانا کہ وہ صادق اور امین ہے حالانکہ اس نے تمام صادقوں کے برخلاف
بات کہی کیا تم نے اس کی
پرانی چادریں نہ دیکھیں کیا تم نے مکاروں کے قصے
نہیں سنے تھے سو تم اپنے آپ کو ملامت کرو نہ کسی دوسرے کو تم نے
اپنی بیویوں اور اپنے بھائیوں اور اپنے دوستوں اور اپنے ہمسائیوں کو
ہلاک کر دیا پس چاہیئے کہ ہریک
رونے والا تمہاری سمجھ پر رووے۔
یہ عیسائیوں اور ان کے کفارہ کی مثال ہے اور ان کی نادانی کا نمونہ ہے اور ہم نے
محضِ للہ نادانوں کے لئے یہ نصیحت
بیان کی ہے۔ مگر مسیح اور اس کے نیک اصحاب اس مثیل
سے مبرا ہیں اور ہمارا خطاب صرف ان خیانت پیشہ لوگوں کی طرف ہے
الذین سیرتہم سیرۃ السر!حان ولبوسہم لبوس الرُّہبان، وقد
تبینَ انکفاء!ہم وبرح لیلا ۂم، وتبین أنہم من الضالین المضلین۔ ومن وقاحتہم أنہم مع جہلہم یصولون علی الإسلام، ویضلّون طوائف الأنام، ویشیعون أنواع الآثام، وکانوا قومًا دجّالین۔ فلیندموا علی بادرۃ
الاعتقاد، ولیخافوا خسرانہم یوم المعاد، وما أنا إلّا نذیر من ربّ العالمین
جن کی خصلت بھیڑیئے کی خصلت اور لباس راہبوں کا لباس ہے اور ان کی برگشتگی اور ان کی رات کی سختی ظاہر
ہوچکی
ہے اور ظاہر ہوچکا ہے کہ وہ گمراہ اور باطل پرست ہیں۔ اور ان کی کمال بے شرمی ہے
کہ وہ باوجود اپنی نادانی کے اسلام پر حملہ کرتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کر رہے اور انواع اقسام
کے
گناہوں کو پھیلا رہے ہیں اور وہ ایک دجال قوم ہے پس چاہیئے کہ اپنی جلدی کے اعتقاد سے پشیمان ہوں اور
اپنے آخرت کے ٹوٹے سے ڈریں اور میں تو ایک ڈرانے والا خدا تعالیٰ کی طرف
سے ہوں۔
إنّی من اللّٰہ العزیز الأکبرِ
حقٌّ فہل من خائفٍ مُتدبّرِ
میں اس خدا کی طرف سے ہوں جو بزرگ اور عزت والا ہے
یہی بات سچ ہے پس کوئی ہے! جو ڈرے اور سوچے
جاء ت
مرابیع الہدی ورِہامُہا
نزلتْ وجَوْدٌ بعدہا کالعسکرِ
ہدایت کے بہاری مینہ آ گئے اور ہلکے ہلکے مینہ تو
اتر آئے اور بڑا مینہ اس کے بعد ایک لشکر کی طرح آنے والا ہے
جُعلت دیار الہند
أرضَ نزولہا
نصرًا بما صارت محلَّ تنصُّرِ
ان مینہوں کے اترنے کی جگہ ہند کی زمین قرار دی گئی
مدد کے طور پر کیونکہ عیسائی دین مسلمانوں میں پھیلنے کی یہی جگہ ہے
فیہا جموع
یشتمون نبیَّنا
فیہا زروع من ضلالٍ مُوثَرِ
اس ملک میں ایسے لوگ ہیں جو ہمارے نبی صلعم کو گالیاں دیتے ہیں
اس ملک میں گمراہی کی کھیتیاں ہیں جو پسند کی گئی ہیں
قوم یعادون التُّقٰی مِن
خبثہم
ویؤیدون أمورَ ضِدِّ تطہُّرِ
وہ ایک قوم ہے جو بوجہ اپنے خبث کے پرہیز گاروں سے دشمنی رکھتی ہے
اور ناپاکی کی باتوں کو شائع کر رہے ہیں
وتکنّستْ ذاتَ المِرار ظبیُّہمْ
إذ صُلتُ
عند تناضُلٍ کغضنفرِ
اور کئی مرتبہ ان کے ہرن مجھ سے چھپ گئے
جب کہ میں نے لڑائی کے وقت شیر کی طرح حملہ کیا