البادیۃ، وکذلک عُلِّمت من المعلِّمین، فہل تأذنونّی أن أفعل کذا، وأرجع إلیکم بذہب کأمثال الرُّبَی، لترجعوا إلی شرکائکم بمال ما رأتہ عین الناظرین؟ وسترون قناطیرًا مقنطرۃ من الذہب الخالص والمال الملیح، ولا ترون نظیرہ فی التنجیۃ إلّا کفّارۃ المسیح، ویکفی لدینکم الکفّارۃُ ولدنیاکم ہذہ الإمارۃ، فنجوتم فی الدارینِ من تحریک الیدین ومِن جہد الجاہدین۔ قالوا الأمر إلیک والقلب لدیک، وإنک الیوم لدینا مکین أمین۔ قال طوبٰی لکم ستُفتَح علیکم أبواب المسرّۃ وتُعطٰی لکم مفاتیح الدولۃ، بل أعلّمکم رُقْیتی، لکی لا تضطربون عند غیبتی، ولکی تکون لکم دولۃ عظمٰی ومُلکٌ لا یبلٰی۔ قالوا لا نستطیع إحصاء شکرک وإنک أکبر المحسنین۔ قال جَیْرَ، ما علّمتُ أحدًا ہذا العمل من قبلکم، ولا أعلِّم بعدکم جاری ہو اور اسی طرح مجھے استادوں نے سکھلایا ہے۔ اب کیا آپ لوگ اجازت دیتے ہیں کہ میں ایسا ہی کروں اور ٹیلوں کی طرح مال لے کر واپس آؤں تا تم وہ مال لے کر اپنے شریکوں کے پاس جاؤ جو کسی آنکھ نے نہ دیکھا ہو اور عنقریب تم ڈھیروں کے ڈھیر سونااور خوبصورت مال دیکھو گے اور بجز کفارہ مسیح کے نجات دینے میں اس کی کوئی نظیر نہیں پاؤ گے تمہارے دین کے لئے تو کفارہ مسیح کافی ہے اور تمہاری دنیا کے لئے یہ امیری مکتفی ہے سو تم دونوں جہانوں میں محنت اور کوشش کرنے سے آزاد ہو گئے۔ انہوں نے عرض کیا کہ ہم تیرے حکم کے تابع ہیں اور ہمارے دل تیرے پاس ہیں اور آج تو ہماری نظر میں با مرتبہ اور امین آدمی ہے۔ کہا شاباش عنقریب تم پر خوشی کے دروازے کھلیں گے اور تمہیں دولت کی کنجیاں دی جائیں گی بلکہ میں تمہیں یہ منتر بھی سکھلادوں گا تا میری عدم حاضری میں تمہیں کچھ تکلیف نہ پہنچے اور تا تمہیں ایک ایسی دولت ملے جو بہت بزرگ دولت ہے اور ایک ایسا ملک ہے جس کا انتہا نہیں انہوں نے کہا کہ ہم تیرا شکر نہیں کر سکتے تو سب احسان کرنے والوں سے بزرگ تر ہے۔ اُس نے جواب دیا کہ تم یقیناًسمجھو کہ یہ عمل مَیں نے تم سے پہلے کسی کو نہیں سکھایا اور نہ بعد تمہارے کسی کو