أمہاتہم، وأشرکوا فی تلک التجارۃ نساءَ أصدقاۂم وأزواج أحبّاۂم، بل نسوانَ جیرانہم وعذاری أقرانہم، وغادروہن کأشجار خالیۃ من
ثمار وغادر کل أحد بیتہ أنقَی من الراحۃ، طمعًا فی کثرۃ المال وزیادۃ الراحۃ ثم رجعوا مستبشرین، ونبذوا الحلی أمام یدیہ فرحین۔ فلما رأی المکّار امتلاء کیسہ وانجلاء بؤسہ، ورأی حمقہم وجہلہم، فرِح
فرحًا شدیدًا، ووجد نفسہ غنیًّا صندیدًا، قال أعلم أنکم ذوو حظ عظیم ومن الفائزین، وستجتنون جَنَی عملکم وتعلُون مطاجملِکم، وتذکروننی إلی أبد الآبدین۔
ثم قال یا معشر الأخیار وأکباد ہذہ الدیار، اعلموا أن ہذا
العمل من الأسرار، وقد وجب إخفاء ہا من الأغیار، ومن أشراط ہذہ الرُّقْیۃ قراء تُہا فی الزاویۃ علی شاطئ الوادی عندؔ نہر جار فی
ماؤں کے پیروں سے زیور اتارے اور اس تجارت میں ان لوگوں کو
بھی شریک کر لیا جو ان کے دوستوں کی عورتیں اور ان کے آشناؤں کی بیویاں تھیں بلکہ اپنے ہمسائیوں کی عورتوں اور اپنے ہم مرتبہ لوگوں کی کنواری لڑکیوں کو بھی اس تجارت میں داخل کیا اور ان
عورتوں کو ایسی حالت میں چھوڑا جیسا کہ درختوں سے پھل اتارا جاتا ہے اور ہریک نے اپنے گھر کو ہتھیلی کی طرح صفاچٹ چھوڑا اس طمع سے کہ مال بڑھے گا اور بہت آرام ہوگا پھر خوش خوش
واپس آئے۔ اور آکر اس مکار کے آگے تمام زیور ڈال دیا اور اس حرکت کرنے کے وقت بہت خوش تھے پس جبکہ اس مکار نے دیکھا کہ اس کا تھیلا بھر گیا اور سختی جاتی رہی اور یہ بھی دیکھا کہ یہ
لوگ کیسے احمق اور جاہل ہیں تو بہت ہی خوش ہوا اور اپنے تئیں ایک غنی رئیس کی طرح پایا کہنے لگا کہ میں جانتا ہوں کہ تم لوگ بڑے ہی خوش قسمت ہو اور ان میں سے ہو جو مراد پاتے ہیں اور
عنقریب تم اپنے عمل کا پھل چنو گے اور اپنے اونٹ پر سوار ہو گے اور ہمیشہ مجھے یاد رکھو گے۔
پھر کہنے لگا کہ اے نیکوں کے ٹولو اور اس ولایت کے جگر گوشو آپ لوگ یقیناً جانیں کہ یہ
عمل
اسرار میں سے ہے اور غیروں سے چھپانا اس کا واجب ہے اور اس کی شرطوں میں سے ہے جو
اس کو گوشہ خلوت میں پڑھیں کسی جنگل کے کنارہ پر اس جنگل میں جہاں نہر
بھی