الجذّارُ، وبتَرہم سیفُ الشحِّ البتّارُ۔ فألقتْ فی الضلالۃ الثانیۃ الضلالاتُ الأولی، وتکونتْ مِن ظلمۃ ظلمۃ أخریٰ، فمالوا إلیہ کما کانوا مالوا إلی عقائد المسیحیین۔ قالوا ما نشقّ عصا أمرک، وما نلغی تلاوۃ شکرک، وقد أتیتَنا من الغیب کملائکۃ منجِّین۔ فبادَروا إلی بیوتہم فی فکر قُوْتہم وتنضیر سَبْروتہم، وما شکّوا وما تقاعسوا، بل کلٌّ منہم ذہبؔ لیأتی بہ الذہب، وزاب لیزداب، وکانوا فی سکرۃ حرصہم کالمجانین۔ فلما دخلوا ربوعہم مَراحًا، قالوا لأہلہا أنعِموا صباحًا، ثم قصّوا علیہم القصّۃ، وہنّأوہم متبسّمین۔ فصدّقوا قولہم الذین کانوا کمثلہم فی الجہالۃ ونظیرہم فی الضلالۃ، وکانوا یتغنون فرحین۔ فنزعوا الحلی من أعضاء نساۂم وآذان إماۂم وآناف بناتہم وأیدی أخواتہم وأرجل اور لالچ کی تلوار ان کو دو ٹکڑے کر چکی تھی سو ایک گمراہی نے ان کو دوسری گمراہی میں ڈال دیا اور ایک اندھیرے سے دوسرا اندھیرا پیدا ہوگیا۔ پس اس کی طرف ایسے مائل ہوگئے جیسا کہ وہ مسیحی عقیدوں کی طرف مائل تھے اور کہا کہ ہم تیرے حکم کا انکار نہیں کرتے اور تیرے شکر کو ہم نہیں چھوڑیں گے اور تُو تو ہمارے لئے غیب سے ایسا اترا جیسا کہ فرشتے نجات دینے والے اترتے ہیں پھر وہ لوگ اپنے گھروں کی طرف دوڑے اس فکر میں کہ قوت کا سامان ہو جائے اور زمین خشک سرسبز ہوجائے اور کچھ شک نہ کیا اور نہ تاخیر کی بلکہ ہر ایک ان میں سے دوڑا تاکہ سونا لاوے اور چلنے میں جلدی کی تاکہ وہ کچھ بھار اٹھا لیوے اور اپنی حرص کے نشہ میں سودائیوں کی طرح ہو رہے تھے۔ اور پھر جبکہ وہ اپنے گھروں میں خوش خوش داخل ہوئے تو داخل ہوکر کہنے لگے کہ گڈ مارننگ پھر ان لوگوں کو تمام قصہ سے مطلع کیا اور ہنس ہنس کر ان کو مبارک باد دی پس ان لوگوں نے جو جہالت اور گمراہی میں ویسے ہی تھے ان کی باتوں کی تصدیق کی اور مارے خوشی کے گانے لگے۔ پھر ان لوگوں نے اپنی عورتوں کے اعضاء اور اپنی لونڈیوں کے کانوں اور اپنی بیٹیوں کے ناکوں اور اپنی بہنوں کے ہاتھوں اور اپنی