الکید، وعرَف أنہم سقطوا فی شبکتہ واغترّوا بخدیعتہ، وجاء وا تحت فُخّہ بصفیرہ وزفرتہ، فکلّمہم بأحادیث ملفّقۃٍ، وأکاذیب مزخرَفۃٍ، وقال ما لی یأخذنی رقّۃٌ علیکم، ویہوی قلبی إلیکم؟ لعل اللّٰہ قدّر لکم حظًّا فی منہلی، ونُزُلاً فی منزلی، وأراد أن یجعلکم من المتمولین۔ وقد کنتُ أعلم أنکم مِن أکرمِ جرثومۃٍ وأطہرِ أرومۃٍ، ومِن أبناء بناۃ المجد وأرباب الجد، والآن أراکم بصفر الید، فأُلقِیَ فی قلبی أن أرحمکم وأشفق علیکم، وأقوم لمواساتکم ودفع آفاتکم، وکذلک وقعتْ شِیمتی، واستمرّت عادتی۔ وخیرُ الناس من ینفع الناس، ویعین ذوی الفاقات والمساکین۔ وستَعجُمون عُودَ دعوای وحلاوۃَ جَنای، وإنّی لمن الصادقین۔ فکلوا ہنیءًا مریءًا ہذہ المائدۃ الواردۃ، واستقبِلوا ہذہ الدولۃ الحاردۃ، وخذوا تلک الغنیمۃ الباردۃ شاکرین اور فریب چل گیا اور وہ احمق اس کے دام میں پھنس گئے اور اس کے فریب میں آگئے اور اس کی سیٹی سن کر اس کے جال کے نیچے آبیٹھے سو کہیں کی کہیں لگا کر جھوٹی باتیں سنانے لگا اور کہنے لگا کہ کیا سبب ہے کہ مجھ کو تم پر بڑا ہی رحم آتا ہے شاید خدا تعالیٰ نے میرے چشمہ میں تمہاری کچھ قسمت لکھی ہے اور میرے مہمان خانہ میں تمہاری مہمانی مقدر ہے اور شاید خدا تعالیٰ نے چاہا کہ تم کو مالدار کردے۔ اور مجھے پہلے سے معلوم ہے کہ تم لوگ بڑے خاندان کے آدمی اور اصیل ہو اور نیز رئیسوں کے بیٹے اور دولت مندوں کی اولاد ہو اور اب میں تم کو افلاس کی حالت میں دیکھتا ہوں سو میرے دل میں ڈالا گیا جو میں تم پر رحم اور شفقت کروں اور تمہاری ہمدردی کے لئے کھڑا ہو جاؤں اور اسی طرح میری عادت ہے کیونکہ نیک آدمی وہی ہوتا ہے جو لوگوں کو نفع پہنچاوے اور مسکین لوگوں کی مدد کرے۔ اور تم عنقریب میرے دعویٰ کی شاخ کا پھل آزما لو گے اور میرے پھل کی حلاوت تمہیں معلوم ہو جائے گی اور میں سچا ہوں سو تم اس کھانے کو جو اترا ہے خوب سیر ہو کر مزہ سے کھاؤ اور اس دولت کی طرف رخ کرو جس نے تمہاری طرف آنے کا قصد کیا اور اس مال مفت کو شکر کے ساتھ لے لو۔