فدخل وعلیہ بُرْدانِ رثّانِ، وفی یدہ سُبحۃ کسبحۃ الرُہبان، وکان سائلا معترًّا، وشَعِثًا مغبرًّا، قد لقِی متربۃً وضرًّا، حتی انثنی محقوقِفًا مصفرًّا وکان لبسُہ کثیرَ الانخراق بادیَ الإخریراق، وکانت ہیئتہ تشہد علی أنہ ما أصاب ہِلّۃً ولا بِلّۃً، وإن ہو إلا معروق العظم ومن الطالحین۔ فوَلَجَ حَلْقتَہم بسوء حالہ وأفانینِ مقالہ، لیخدَعہم بزخرفۃِ محالہ، فسلّم ثم کلّم، وقال ہل أدلّکم إلی مکسب مال تنجیکم من إقلال، فتکونون ذوی أملاک وریاض، وترفَلون فی ذیلٍ فضفاض، وتُفعِمون صنادیقکم کما یفعم الماء فی حیاض، فتصبحون متنعّمین؟ فرغبوا مِن حمقہم وشدۃ شحّہم فی الأموال، وقاؔ لوا مرحبًا لک تعال تعال، ودُلَّنا إلی ہذا المنوال، وإنا نفعل کل ما تأمر، ونحضر أینما تحضر، وستجدنا من المتمثّلین الشاکرین۔ ففرِح الخُدَعۃُ فی قلبہ علی قید الصید وإصابۃ کس شان کا آدمی ہے پس وہ ان عیسائیوں کے گھر میں داخل ہوا ایسی حالت میں کہ دو پرانی چادریں اس پر تھیں اور ایک تسبیح ہاتھ میں جیسا کہ راہبوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور دراصل وہ ایک محتاج پریشان حال تھا جو کمال درجہ کی محتاجگی تک پہنچ چکا تھا یہاں تک کہ وہ زرد رنگ اور خم پشت ہوگیا اور کپڑے جا بجا پھٹے ہوئے تھے جن کو وہ چھپا نہیں سکتا تھا اور اس کی صورت کہہ رہی تھی کہ ایک ادنیٰ سی بہبودی بھی اس کو حاصل نہیں اور وہ ایک بدبختی کی حالت میں ہے سو اسی حالت میں وہ ان کے حلقہ میں داخل ہوا اور لگا باتیں بنانے تاکہ اپنی آراستہ کلام سے ان کو دھوکا دے سو اس نے پہلے تو سلام کیا اور پھر گفتگو شروع کی اور کہا کہ کیا میں تمہیں ایک ایسی آمدن کی راہ بتاؤں جو تمہیں ناداری کی حالت سے نجات بخشے اور تم اس سے بڑے مال ملک والے ہو جاؤ گے اور تمہارے باغ ہوں گے اور فاخرانہ کپڑوں میں لٹکتے پھرو گے اور روپیہ سے اپنے صندوق اس قدر بھر لو گے کہ جس طرح حوضوں میں پانی ہوتا ہے اور بڑے مالدار ہو جاؤ گے سو انہوں نے بے وقوف عیسائیوں کے دل اپنی حماقت اور لالچ کی وجہ سے ایسے مال لینے کے لئے للچائے اور کہا کہ مرحبا تشریف لائیے اور ہمیں ایسی راہ بتائیے اور ہم وہی کریں گے جو آپ فرمائیں گے اور جس جگہ حاضر ہونے کو کہو گے حاضر ہو جائیں گے اور ہم کو آپ فرمانبردار اور شکر گذار پاؤ گے۔ پس وہ مکار یہ باتیں سن کر اپنے دل میں بہت خوش ہوا اور سمجھا کہ شکار مارا گیا