استماع قول الکذّاب، وإذا بلغہا فلا یجد إلا وادی التباب، فتضطرم نار العطش وتثِب علیہ کالذیاب، ویحترق القلب کاحتراق الجلباب،
فیسقط علی الأرض من غلبۃ الاضطراب، ویطیر روحہ کالطیر ویلحق بالمیّتین۔
فمثلُؔ قوم اتّکأُوا علی الکَفّارۃ من کمال الجہل والغرارۃ، کمثل حمقی الذین کانوا من قوم متنصرین۔ طحطَحَ بہم قلّۃُ المال
وکثرۃ العیال، حتی کان الفقر حَصادَہم والتُرْب مِہادَہم، وطعامہم بعض الأفانی وسَحْناء ہم کالشیخ الفانی، وکانوا من شدۃ بؤسہم مضطرین۔ فقیّض القدر لنَصَبِہم ووَصَبِہم أن جاء ہم شیخ شَخْتُ الخِلْقۃ، دقیق
الشَرَکۃ، حقیر السَّحْنۃ، وکان توجد فیہ آثار الخصاصۃ والافتقار، ویبیّن حالَہ الحِذاءُ المرقَّعُ وبلی الأطمارِ
اور ایک جھوٹے کی بات کو سن کر اعتبار کر لیتا ہے اور جب اس ریت پر پہنچتا ہے تو بجز
ایک جنگل ہلاک کرنے والے کے
اور کچھ نہیں پاتا تب اس وقت پیاس کی آگ بھڑکتی ہے اور اس پر بھیڑیوں کی طرح حملہ کرتی ہے اور اس کا دل ایسا جلتا
ہے جیسا کہ ایک چادر کو آگ لگ جاتی
ہے پس بے قرار ہوکر زمین پر گر پڑتا ہے اور اس کی روح پرند
کی طرح پرواز کر جاتی ہے اور مردوں سے جا ملتی ہے۔
پس ان لوگوں کی مثال جو کفارہ پر اپنے جہل اور نادانی کی وجہ سے
تکیہ کئے بیٹھے ہیں ان لوگوں کی
مانند ہیں جو ایک گروہ بے وقوف عیسائیوں کا تھا اور ایسا اتفاق ہوا کہ وہ لوگ قلت مال
اور کثرت عیال کی وجہ سے ایسے پریشان خاطر ہوئے کہ محتاجگی نے
جس طرح کہ گھاس کاٹا جاتا ہے
ان کو کاٹ دیا اور زمین ان کا بچھونا ہوگیا اور کھانا ان کا گھاس پات ہوگیا اور ان کی شکل مارے فاقوں کے بڈھوں
کی سی ہوگئی اور اپنے فقر فاقہ سے وہ سخت
محتاج ہوئے پس بُری تقدیر نے ان کے لئے یہ اتفاق
پیش کیا کہ ایک دبلا سا بڈھا ان کے پاس آیا جس کے مکروں کی جالی بہت ہی باریک تھی اور وہ کچھ رو دار صورت
نہیں تھا اور اس میں
ناداری اور محتاجگی کے آثار نمایاں تھے اور اس کی پھٹی پرانی جوتی اور پرانی چادریں بتلا رہی تھیں کہ