للمتقدم لا للذی جاء بعدہ کالمضاہین۔ وقد خلق اللّٰہ آدم بیدہ وعلی صورتہ، ونفخ فیہ روحہ بکمال محبتہ، وأما المسیح فما کان لَبِنۃَ
أوّلِ الأساس، بل جاء فی أُخریات الناس، وکان من المتأخرین۔
ثم العجب أن إلہ النصاری ولَد الابنَ ولم یلد البناتِ، کأنہ عاف الأَخْتانَ أو کرِہ أن یصاہر إلا الصِّفْتات، أوْ لم یجد کمثلہ الشرفاء السراۃ۔ فہل من
أعجوبۃ فی السکاری مثل أطروفۃ النصاری، أم ہل رأیت مثلہم من المغلّسین؟ والأصل الموجب الجالب إلی ہذہ العقیدۃ الفاسدۃ والأمتعۃ الکاسدۃ، انہماکُہم فی الدنیا مع ہجوم أنواع العصیان وشوق نعماء الجِنان
مع رِجس الجَنان۔ وأنت تعلم أن الشحّ یُعمِی عینَ رؤیۃ الصواب، فلا یفتّش الشحیحُ العَجولُ مِن الوِہاد والحِداب، بل یسعی مستعجلا إلی ملامح السراب، بمجرد
کہلاتا جو پیچھے سے آوے اور پہلے کی
ریس سے کوئی بات منہ پر لاوے اور خدا نے تو آدم کو اپنے ہاتھ سے اور
اپنی صورت پر پیدا کیا تھا اور کمال محبت سے اس میں اپنا روح پھونکا مگر مسیح تو
پہلی بنیاد کی اینٹ نہیں تھے بلکہ
وہ تو آخری لوگوں میں آیا اور متاخرین میں سے کہلایا۔ پھر
تعجب یہ ہے کہ نصاریٰ کے خدا نے بیٹا توجنا مگر بیٹی کوئی نہیں جنی گویا اس نے دامادوں سے
کراہت کی اور نہ چاہا کہ کوئی غیر
کفو اس کا داماد ہو یا اپنے جیسا کوئی عزّت دار نہ پایا
جس کو لڑکی دیوے پس کیا عیسائیوں کے عقیدوں کے اعجوبہ کی طرح کوئی اور بھی اعجوبہ ہے یا ان کی مانند
تو نے کوئی اور بھی
اندھیرے میں رات میں چلتا دیکھا۔ اور اصل موجب جس نے عیسائیوں کو اس
عقیدہ کی طرف کھینچا ان کا دنیا میں غرق ہونا ہے پھر اس کے ساتھ
قسما قسم کے گناہ اور پھر دل کی پلیدی کے ساتھ
آخرت کی نعمتوں کا شوق اور تو جانتا ہے کہ لالچ حق بینی کی
آنکھ کو بند کر دیتا ہے پس لالچی اور شتاب کار آدمی نشیب فراز کو کچھ نہیں دیکھتا
پس اس ریت کی طرف جلدی سے دوڑتا ہے جو
پانی کی طرح دکھلائی دیتی ہے