وصلیبان لا یقال إن الابن کان واحدا فرضِی لیُصلَب لنوع الإنسان، وما کان ابن آخر لکفّارۃِ أبناء الجانّ۔ لأنا نقول فی جوابہ إن الأب
کان قادرًا علی أن یلد ابنا آخر، وما کان کالعاجز الحیران، فلا ریب أنہ ترک الجنَّ عمدًا أو من النسیان، أو ما صلَب ابنًا ثانیًا مخافۃَ بَتْرِہ کالجبان۔ ومن المحتمل أن یکون الابن الآخر أحبَّ من الابن الأوّل إلی
الأب التَّوْقان، وہذا لیس بعجیب عند ذوی الأذہان، فإنہ قد یتفق أن الأصغر من الأبناء یکون أحبّ إلی الآباء ۔ ففکِّرْ فی ہذہ الآراء ، وفی إلٰہ ہو ذو بنات وبنین۔ وسبحان ربنا عما یخرج من أفواہ الظالمین۔
ثمؔ
بعد ذلک نرٰی أن آدم کان أول أبناء اللّٰہ فی نوع الإنسان، وقد أقرّتْ أناجیل النصاری بہذا البیان، ومن المعلوم أن الفضل
تب پورا ہوسکتا ہے کہ جب دو بیٹوں کو پھانسی دیا جاتا یہ بات کہنے کے لائق نہیں
کہ بیٹا تو صرف ایک
ہی تھا وہ اسی پر راضی تھا کہ وہ فقط نوع انسان کے لئے پھانسی دیا جاوے کوئی دوسرا بیٹا تو نہیں تھا کہ تا جنوں کے لئے
پھانسی دیا جاتا کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ باپ اس
بات پر قادر تھا کہ اس بات کے لئے کوئی اور بیٹا جنے جیسا کہ اس نے پہلا بیٹا
جنا پس کچھ شک نہیں کہ اس نے جنّوں کے گروہ کو عمداً عذاب ابدی میں چھوڑا اور محض بخل کی راہ سے ان کے
لئے کوئی
پھانسی پر نہ لٹکایا اور یہی گمان ہوسکتا ہے کہ چھوٹا بیٹا بڑے بیٹے سے زیادہ پیارا ہو اور یہ کچھ تعجب کی بات
نہیں کیونکہ کبھی یہ بھی اتفاق ہوجاتا ہے کہ
چھوٹا بڑے سے باپ
کو زیادہ زیادہ پیارا ہوتا ہے پس اس بات میں فکر کر
(اور اس خدا کے بارہ میں) جس کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں اور ہمارا خدا ان باتوں سے پاک ہے جو
ظالموں کے منہ سے نکلتی ہیں۔
پھر
بعد اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ پہلا بیٹا تو نوع انسان میں سے آدم ہی تھا
چنانچہ انجیلیں اس بات کا اقرار کرتی ہیں اور یہ تو معلوم ہے کہ بزرگی پہلے ہی کو ہوتی ہے اور وہ تو بزرگ
نہیں