ونجاۃ من نار أبدیۃ التی أُعدّتْ لہم، فما نفعہم إبارتہ ولا کفّارتہ، وکانوا یؤمنون بالمسیح کما شہد علیہ الإنجیل بالبیان الصریح،
فکأنّ الابن ما دعا تلک المذنبین إلی ہذا القِری وتقاعسَ کبخیل وضنین۔ ومنؔ المحتمل أن یکون للأب ابن آخر، صُلِبَ لتلک المعشر، بل من الواجبات أن یکون کذلک لتنجیۃ العُصاۃ، فإنّ ابنًا إذا صُلِبَ لنوع الإنسان
مع قلۃ العصیان، فکم مِن حریّ أن یُصلَب ابن آخر لنوعٍ جِنِّیٍّ الذی ذنبہم أکبر وأکثر، وإلا فیلزم الترجیح بلا مُرجِّح بالیقین، ویثبت بخل الأب أو بخل البنین۔ ولا شک أن فِکْرَ مغفرۃ قوم عادین والتغافلَ من قوم
آخرین، عُدولٌ صریح وظلم مبین، بل یثبت مِن ہذا جہلُ الأب المنّان۔ أمَا کان یعلم أن المذنبین قومانِ، ولا یکفی لہم صلیب بل اشتدت الحاجۃ إلی أن یکون ابنان
نجات ہو جو ان کے لئے تیار کیا گیا ہے سو
جنوں کو اس کے مصلوب ہونے نے کچھ بھی فائدہ نہ پہنچایا حالانکہ
وہ اس پر ایمان لاتے تھے جیسا کہ اس پر انجیل گواہی دے رہی ہے پس گویا بیٹے نے اپنے اس
کفارہ کی مہمانی کی طرف ان
گناہ گاروں کو نہیں بلایا اور بخیلوں کی طرح
تاخیر کی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ باپ کا کوئی اور بیٹا ہو جو جنّوں کے لئے پھانسی دیا گیا ہو
بلکہ یہ تو واجبات سے ہے کہ ایسے ہی ہو کیونکہ
جب ایک بیٹا نوع انسان
کے لئے جو تھوڑے ہیں پھانسی دیا گیا پس کس قدر لائق ہے کہ ایک دوسرا بیٹا جنّوں کے لئے پھانسی ملے جو
گناہ اور تعداد کے لحاظ سے بنی آدم سے بڑھے ہوئے ہیں
ورنہ ترجیح بلا مرحج لازم آئے گی
اور باپ اور بیٹوں کا بخل ثابت ہوگا اور کچھ شک نہیں کہ ایک قوم کی مغفرت کا فکر
دوسری قوم سے تغافل صریح ظلم اور بیجا کارروائی ہے بلکہ
اس سے
تو باپ کا جہل ثابت ہوتا ہے کیا اس کو معلوم نہیں تھا کہ گناہ گار لوگ دو قومیں ہیں
صرف ایک قوم تو نہیں سو دو قوموں کے لئے صرف ایک بیٹے کا پھانسی دینا کافی نہیں بلکہ کافی طور پر یہ
مقصد