ابنہ لأجل خطایا الناس، فنجّی المذنبین وأخذ المعصومَ وعذّبہ بأنواع البأس کالمذنبین۔ ہٰذا ما قالوا، ولکن العجب من الأب الذی کان
نشوانًا أو فی السُّبات أنہ نسِی عند صلیب ابنہ ما کتب فی التوراۃ وقال لا أُہْلِکُ إلّا الذی عصانی، ولا آخذ أحدًا مکانَ أحد من العصاۃ، فنکَث العہد وأخلف الوعد، وترک العاصین وأخذ أحدًا من المعصومین۔ لعلہ
ذہَل قولَہ السابق مِن کبر السن وأرذل العمر وکان من المعمّرین۔
والعجب من الابن أنہ کان یعلم أن معشر الجن سَبَقَ الإنسَ فی الخطأ ولا ینتہجون محجّۃ الاہتداء ، بل تجاوزوا الحد فی شباء ۃ الاعتداء ، ثم
تغافلَ من أمر سیآتہم، وما توجّہَ إلی مواساتہم، وما شاء أن ینتفع الجن من کَفّارتہ، ویکون لہم حیاۃٌ من إبارتہ
تا گناہ گاروں کو چھڑاوے اور گناہ گاروں کی طرح اس معصوم پر
عذاب ہوا۔ یہ وہ باتیں
ہیں جو عیسائی کہتے ہیں لیکن باپ سے تعجب ہے کہ وہ اپنے
بیٹے کو پھانسی دینے کے وقت اپنے اس قول کو بھول گیا جو توریت میں کہا تھا کہ میں اسی کو
ہلاک کروں گا جو میرا گناہ کرے اور
میں ایک کی جگہ دوسرے کو نہیں پکڑوں گا سو اس نے
عہد کو توڑا اور وعدہ کے خلاف کیا اور گناہ گاروں کو چھوڑ دیا اور
ایسے آدمی کو پکڑا جس پر کوئی گناہ نہیں تھا۔ شاید وہ اپنا پہلا قول
بباعث بڑھاپے
اور پیرانہ سالی کے بھول گیا کیونکہ معمر تھا۔
اور بیٹے سے یہ تعجب ہے کہ وہ خوب جانتا تھا کہ جنّوں کا گروہ آدمیوں سے
گناہ میں بڑھ گیا ہے اور وہ سیدھا راستہ اختیار
نہیں کرتے بلکہ بے راہی کی تیزی میں حد سے زیادہ بڑھ
گئے ہیں پھر اس نے ان کے بارے میں تغافل کیا اور ان کی ہمدردی کے لئے کچھ توجہ نہ کی
اور نہ چاہا کہ اُس کے کفارہ سے جن کا
گروہ فائدہ اٹھاوے اور ان کو اس ابدی عذاب سے