وقال لا تقولوا لی صالحا، ثم یجعلونہ شریک البارئ ویحسبونہ رب العالمین، ویقولون ما یقولون ولا یخافون یوم الدّین۔ ویظنون أن
المسیح صُلب ولُعن لأجل معاصیہم وأُخذ لإنجاۂم وعُذّب لتخلیصہم، وأن الخَلْق أحفظَ الأبَ بذنوبہم، وکان الأب فظًّا غلیظ القلب سریع الغضب، بعیدا عن الحلم والکرم، مغتاظًا کالحرق المضطرم، فأراد أن
یُدخلہم فی النار، فقام الابن ترحمًا علی الفُجّار، وکان حلیما رحیما کالأبرار، فمنَع الأبَ من قہرہ وزیادتہ، فما امتنع وما رجع من إرادتہ، فقال الابن یا أَبَتِ إن کنتَ أزمعتَ تعذؔ یب الناس وإہلاکہم بالفأس، ولا
تمتنع ولا تغفر، ولا ترحم ولا تزدجر، فہا أنا أحمل أوزارہم وأقبَل ما أَبارَہم، فاغفِرْ لہم وافعَلْ بی ما ترید، إن کان قلیلا أو یزید۔ فرضِی الأب علی أن یصلب
اس نے کہا کہ مجھے نیک مت کہو پھر یہ لوگ
اس کو خدا تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں اور اس کو
رب العالمین سمجھتے ہیں اور جو کہتے ہیں سو کہتے ہیں اور قیامت کے دن سے نہیں ڈرتے۔ اور یہ خیال کر رہے ہیں کہ
مسیح ان کے گناہوں
کے لئے مصلوب اور ملعون ہوا اور ان کے بچانے کے لئے ماخوذ اور معذب ہوا
اور خلقت نے باپ کو اپنے گناہوں سے غصہ دلایا اور باپ
سخت دل سریع الغضب تھا حلم اور کرم اس میں نہیں
تھا
بلکہ غصے سے آگ کی طرح بھڑکا ہوا تھا سو اس نے چاہا کہ خلقت کو دوزخ میں ڈالے سو بیٹا بدکاروں پر رحم
کرکے شفاعت کے لئے کھڑا ہو گیا اور بیٹا حلیم اور رحیم اور نیک آدمی تھا
پس اس نے اپنے باپ کو قہر اور
زیادت سے منع کیا مگر باپ اپنے ارادہ سے باز نہ آیا سو بیٹے نے کہا کہ اے باپ اگر تیرا یہی ارادہ
ہے کہ لوگوں کو ہلاک کرے اور کسی طرح تو ان کو نہیں
بخشتا اور نہ
رحم کرتا ہے سو میں تمام لوگوں کے گناہ اپنی گردن پر لے لیتا ہوں سو ان کو تو بخش دے اور جو تو نے عذاب
دینا ہے وہ مجھے عذاب دے سو اس کلمہ سے باپ غضبناک راضی
ہوگیا اور اس کے حکم سے بیٹا پھانسی دیا گیا