وأنا أسمع، فہل فی الدار غیری، وقال بعضہم أنا الحق؛ فہٰؤلاء کلّہم معفّوون، فإنہم نطقوا من غلبۃ کمال المحویۃ والانکسار، لا من
الرعونۃ والاستکبار، وحفّتْ بہم سُکْرُ صہباء العشق وجذبات الحب المختار، فخرجت ہذہ الأصوات من خوخۃ الفناؔ ء لا من غرفۃ الخیلاء وما نقلوا الأقدام إلی دون اللّٰہ بل فنوا فی حضرۃ الکبریاء ، فلا شک
أنہم غیر ملومین. ولا یجوز اتّباع کلماتہم وحرص مضاہاتہم، بل ہی کلمٌ یجب أن تُطوَی لا أن تُروی، ولا یؤاخذ اللّٰہ إلا الذین کانوا من المتعمدین المجترئین.
وعجبتُ للنصاری ولا عَجَبَ من المسرفین،
أنہم یقرّون بأن عیسٰی کان عبد اللّٰہ وابن آدم، وکان یقول إنی رسول اللّٰہ وعبدہ، وحثَّ الناسَ علی التوحید والاجتناب من الشرک، وانکسر وتواضع
منہ کیا اور میں ہی جنب اللّٰہ ہوں جس کے حق میں تم نے
تقصیر کی اور بعض نے کہا کہ میں ہی کہتا ہوں اور میں ہی سنتا ہوں اور میرے سوا اور گھر میں کون ہے اور بعض نے کہا کہ میں ہی حق ہوں سو یہ تمام لوگ مرفوع القلم ہیں کیونکہ وہ کمال محویت
سے بولے ہیں نہ رعونت اور تکبر سے اور شراب عشق کے نشہ اور دوست برگزیدہ کے جذبات نے ان کو گھیر لیا سو یہ آوازیں
فنا کی کھڑکی سے نکلیں نہ تکبر کے بالا خانہ سے اور دون اللہ کی
طرف انہوں نے قدم سے نہیں اٹھایا
بلکہ حضرت کبریا میں فنا ہوگئے سو کچھ شک نہیں کہ ان پر ان کلمات سے
کوئی ملامت نہیں۔ اور ان کے ان کلمات کی پیروی جائز نہیں اور نہ یہ روا ہے کہ
ان کی مشابہت کی
خواہش کی جائے بلکہ یہ ایسے کلمے ہیں کہ لپیٹنے کے لائق ہیں نہ اظہار کے لائق اور خدا تعالیٰ انہیں سے مواخذہ
کرتا ہے جو عمداً چالاکی سے ایسے کلمے منہ پر
لاویں۔
اور مجھے عیسائیوں سے تعجب آتا ہے اور جو زیادتی کرے اس پر کچھ تعجب بھی نہیں وہ اقرار کرتے ہیں کہ
عیسیٰ خدا کا بندہ اور ابن آدم تھا اور کہا کرتا تھا کہ مَیں خدا کا بندہ اور اس
کا رسول ہوں
اور توحید کے لئے رغبت دیتا تھا اور شرک سے ڈراتا تھا اور کسر نفسی اس میں اتنی تھی کہ