دیکھیں گے کہ وہ سہو اور نسیان سے مبرّا ہیں یا نہیں اور کوئی غلطی صَرف اور نحو کی رو سے ان میں پائی جاتی ہے یا نہیں اگر نہیں پائی جائیگی تو پھر بالمقابل تفسیر لکھنے اور سو۱۰۰شعرکا قصیدہ بنانے میں کچھ عذر نہ ہوگا۔مگر دانشمندوں نے سمجھ لیا کہ بطالوی صاحب نے اپنی جان بچانے کیلئے یہ حیلہ نکالا ہے کیونکہ ان کو خوب معلوم ہے کہ عربی یا فارسی کی کوئی مبسوط تالیف سہو اور غلطی سے خالی نہیں ہو سکتی اور حیلہ جو کیلئے کوئی نہ کوئی لفظ گو سہو کاتب ہی سہی حجت پیش کرنے کیلئے ایک سہارا ہو سکتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے بہت ہاتھ پَیر مارکر اور مثل مشہورمرتاکیا نہ کرتاپر عمل کرکے یہ شرمناک عذر پیش کر دیا اور اپنے دل کواس بازاری چال بازی سے خوش کرلیا کہ کسی ایک سہو کاتب یا فرض کرواتفاقاً کسی غلطی کے نکلنے سے یہ حجت ہاتھ آجائے گی کہ اب غلطی تمہاری کسی کتاب میں نکل آئی اسلئے اب بحث کی ضرورت نہیں رہی۔ لیکن افسوس کہ بطالوی صاحب نے یہ نہ سمجھا کہ نہ مجھے اور نہ کسی انسان کو بعد انبیاء علیہم السلام کے معصوم ہونے کا دعویٰ ہے۔ جوشخص عربی یا فارسی میں مبسوط کتابیں تالیف کرے گا ممکن ہے کہ حسب مقولہ مشہورہ قلّماسلم مکثار کے کوئی صرفی یا نحوی غلطی اُس سے ہو جائے اور بباعث خطاء نظر کے اُس غلطی کی اصلاح نہ ہوسکے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ سہو کاتب سے کوئی غلطی چھپ جائے اوربباعث ذہول بشریت مؤلف کی اسپر نظر نہ پڑے پھر اس یکطرفہ نکتہ چینی میں دونوں فریق کی علمی طاقتوں کا موازنہ کیونکر ہو۔ غرض بطالوی صاحب کے ایسے بیہودہ جوابات سے یقینی طور پر معلوم ہو گیا کہ علم تفسیر اورعلم ادب میں قسّام حقیقی نے ان کو کچھ بھی حصّہ نہیں دیااوربجز لعن وطعن اورچال بازی کی مشق کے اور کچھ بھی اُن کے دل اور دماغ اور زبان کو لوازم انسانیت نہیں ملی اسی وجہ سے اوّل مجھے اُن کے اِس قسم کے تعصبات کو دیکھ کر دل میں یہ خیال آیا تھا کہ اب ہمیشہ کے لئے ان سے اعراض کیا جائے ۔ لیکن عوام کایہ غلط خیال دُور کرنے کے لئے کہ گویا میاں محمد حسین بطالوی یا دوسرے مخالف مولوی جو اِس بزرگ کے ہم مشرب ہیں علم ادب اور حقائق تفسیر