بیگانہؔ اور ملعون اور مفتری قرار دے کر یہ چاہا کہ عوام پر تمام راہیں نیک ظنی کی بند ہو جائیں لیکن عجیب قدرت خداوند
تعالیٰ ہے کہ اس امر میں بھی اس نے نہ چاہا کہ بطالوی صاحب اور ان کے ہم مشرب علماء کی کچھ عزت اور راستی ظاہر ہو۔ سو اگرچہ میں درحقیقت امیوں کی طرح ہوں لیکن محض اس نے اپنے
فضل سے علم ادب و دقائق و حقائق قرآن کریم میں میری وہ مدد کی کہ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں ہیں کہ میں اس خداوند کا شکر ادا کر سکوں اور مجھ کو بشارت دی کہ اگر میاں بطالوی یا کوئی دوسرا
اس کا ہم مشرب مقابلہ پر آئے تو شکست فاش اٹھا کر سخت ذلیل ہوگا۔ اسی بنا پر میں نے اشتہار دیا کہ میاں بطالوی پر واجب ہے کہ میرے مقابل پر قرآن کریم کی ایک سورت کی تفسیر عربی فصیح بلیغ
میں لکھے جو دس۱۰ جزو سے کم نہ ہو اور نیز ایک قصیدہ نعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں پیش کرے جو سو۱۰۰ شعر ہو اور ایسا ہی میرے پر واجب ہوگا کہ میں بھی اسی سورۃ کی تفسیر
عربی فصیح بلیغ میں لکھوں اور نیزسو۱۰۰ شعر کا قصیدہ بھی نعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں تیار کروں اور پھر اگر عندالمقابلہ و الموازنہ میاں بٹالوی صاحب کی تفسیر اور ان کا قصیدہ میری
تفسیر اور قصیدہ سے افصح اور ابلغ اور اتم اور اکمل ثابت ہوا تو میں اپنے دعوے سے توبہ کروں گا اور سمجھ لوں گا کہ خدا تعالیٰ نے بٹالوی صاحب کی تائید کی اور اپنی کتابیں جلا دوں گا۔ اور اگر
میں غالب ہوا تو بٹالوی صاحب کو اقرار کرنا پڑے گا کہ وہ اپنے ان بیانات میں سراسر کاذب اور دروغ گو تھے کہ یہ شخص مفتری اور دجال اور کافر اور ملعون ہے اور نیز علوم عربیہ سے ایسا
جاہل کہ ایک صیغہ بھی درست طور پر نہیں آتا اور ساتھ اس کے میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ اگر کوئی شخص ہم میں سے اس مقابلہ سے منہ پھیرے یا بیجا حجتوں اور حیلوں سے اس طریق آزمائش کو
ٹال دیوے تو اس پر خدا تعالیٰ کی دس۱۰ لعنتیں ہوں۔ مگر افسوس کہ بٹالوی صاحب نے ان لعنتوں کی کچھ بھی پروا نہیں کی۔ اور کئی عہد اور وعدے توڑ کر آخر حیلہ جوئی کے طور پر یہ جواب دیا
کہ اول ہم آپ کی عربی تالیفوں کو آزمائش کی نظر سے