دوسرؔ ا پرچہ مباحثہ ۲۳۔ مئی ۱۸۹۳ء روئداد آج پھر جلسہ منعقد ہوا ۔اور آج پادری جے ایل ٹھاکر داس صاحب بھی جلسہ میں تشریف لائے یہ تحریک پیش ہوئی اور باتفاق رائے منظور ہوئی کہ کوئی تحریر جو مباحثہ میں کوئی شخص اپنے طور پر قلمبند کرے قابل اعتبار نہ سمجھی جائے جب تک کہ اس پر ہر دو میر مجلس صاحبان کے دستخط نہ ہوں۔ اس کے بعد ۶ بجے ۳۰ منٹ اوپر مرزا صاحب نے اپنا سوال لکھانا شروع کیا اور ان کا جواب ختم نہ ہوا تھا کہ ان کا وقت گزر گیا۔ اور مسٹر عبداللہ آتھم صاحب اور میر مجلس عیسائی صاحبان کی طرف سے اجازت دی گئی کہ مرز صاحب اپنا جواب ختم کر لیں اور ۱۶ منٹ کے زائد عرصہ میں جواب ختم کیا بعدازاں یہ قرار پایا کہ مقررہ وقت سے زیادہ کسی کو نہ دیا جائے۔ مسٹر عبداللہ آتھم صاحب نے آٹھ بجے ۱۱ منٹ پر جواب لکھانا شروع کیا۔ درمیان میں فہرست آیات کے پڑھے جانے کے متعلق تنازعہ میں صرف ہوا یعنی ۵ منٹ مسٹر عبداللہ آتھم صاحب کے وقت میں ایزاد کئے گئے۔ اور ۹ بجے ۱۶ منٹ پر جواب ختم ہوا۔ مرزا صاحب نے ۹ بجے ۲۷ منٹ پر جواب لکھانا شروع کیا اور ۱۰ بجے ۲۷ منٹ پر ختم ہوگیا۔ اور بعدازاں فریقین کی تحریروں پر میر مجلس صاحبان کے دستخط کئے گئے اور تحریریں فریقین کو دی گئیں اور جلسہ برخاست ہوا۔ دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی ہنری مارٹن کلارک (پریزیڈنٹ) غلام قادر فصیح (پریزیڈنٹ) ازجانب عیسائی صاحبان ازجانب اہل اسلامّ ّ