ہفتم۔ جناب من فطرت یا خلقت فعل الٰہی ہے اور الہام قول الٰہی فعل اورقول میں تناقص نہیں ہونا چاہئے۔ اگر کوئی کلام مبہم معلوم ہووے یا بادی النظر میں مشکل معلوم ہووے تو اس کی تاویل ہم معقولات ہی سے کریں گے ورنہ کہاں جائیں گے؟ چنانچہ جناب نے خود ہی فرمایا کہ امور تاویل طلب کی تاویل واجب ہے۔ اور جناب اس سے بھی بڑھ کر فرماتے ہیں کہ تجربہ کے برخلاف ہم کچھ نہ لیویں گے تو گویا یہ بھی رجوع کرنا طرف فطرت کے ہے جس کے ہم کلیۃً متفق نہیں ہیں۔
ہشتم۔ بجواب آٹھویں کے اتنی ہی عرض ہے کہ جہاں بیٹے حقیقی اور غیر حقیقی کی امتیاز بائبل میں نہ ہو تو ہماری عقل کو روک نہیں کہ ہم اس میں امتیاز نہ کریں اور دوسروں کے ساتھ بھی اگر یہی صفات ملحقہ ہوں جیسے مسیح کے ساتھ ہیں تو ہم ان کو بھی مسیح جیسا مان لیں گے۔
دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی
ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ ازجانب عیسائی صاحبان غلام قادر فصیح پریزیڈنٹ ازجانب اہل اسلام