بیانؔ حضرت مرزا صاحب
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
کل ۲۲۔ مئی ۱۸۹۳ ء کو جو میں نے حضرت مسیحؑ کی الوہیت کے بارہ میں ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب سے سوال کیا تھا۔ اس میں قابل جواب نو۹ ا مر تھے سب سے پہلے میں نے یہ لکھا تھا کہ فریقین پر لازم و واجب ہوگا کہ اپنی اپنی الہامی کتاب کے حوالہ سے سوال و جواب تحریر کریں۔ پھر ساتھ ہی اس کے یہ بھی لکھا گیا تھا کہ ہر ایک دلیل یعنی دلیل عقلی اور دعویٰ جس کی تائید میں وہ دلیل پیش کی جائے اپنی اپنی کتاب کے حوالہ اور بیان سے دیا جائے۔ میرا اس میں یہ مدعا تھا کہ ہر ایک کتاب کی اس طور سے آزمائش ہوجائے کہ ان میں یہ قوت اعجازی پائی جاتی ہے یا نہیں۔ کیونکہ اس زمانہ میں جو مثلاً قرآن کریم پر قریب تیرہ سو برس کے گذر گئے۔ جب وہ نازل ہوا تھا۔ ایسا ہی انجیل پر قریب انیس سو برس کے گذرتے ہیں۔ جب انجیل حواریوں کی تحریر کے مطابق شائع ہوئی۔ تو اس صورت میں صرف ان منقولات پر مدار رکھنا جو ان کتابوں میں لکھی گئی ہیں اس شخص کے لئے مفید ہوگا جو ان پر ایمان لاتا ہے اور ان کو صحیح سمجھتا ہے اور جو معنے ان کے کئے جاتے ہیں۔ ان معنوں پر بھی کوئی اعتراض نہیں رکھتا۔ لیکن اگر معقولی سلسلہ اس کے ساتھ شامل ہو جاوے تو اس سلسلہ کے ذریعہ سے بہت جلد سمجھ آجائے گا کہ خدا تعالیٰ کا سچا اورپاک اور کامل اور زندہ کلام کون سا ہے سو میرا یہ مطلب تھا کہ جس کتاب کی نسبت یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ فی حدّ ذاتہٖ کامل ہے اور تمام مراتب ثبوت کے وہ آپ پیش کرتی ہے تو پھر اسی کتاب کا یہ فرض ہوگا کہ اپنے اثبات دعاوی کے لئے دلائل معقولی بھی آپ ہی پیش کرے نہ یہ کہ کتاب پیش کرنے سے بالکل عاجز اور ساکت ہو اور کوئی دوسرا شخص کھڑا ہوکر اس کی حمایت کرے اور ہر ایک منصف بڑی آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ اگر اس طریق کا التزام فریقین اختیار کر لیں تو احقاق حق اور ابطال باطل بہت سہولیت سے ہوسکتا ہے۔ میں امید