امکان کے برخلاف ہے کہ خدا ایسا نہیں کرسکتا۔(ہمارے نزدیک تو امکان کے برخلاف نہیں)۔ سوم۔ ہم نے ابن اللہ کو جسم نہیں مانا۔ ہم تو اللہ کو روح جانتے ہیں جسم نہیں۔ چہارم۔ امر کے بارہ میں ہماری التماس یہ ہے کہ بیشک تاویل طلب امر کو تاویل کرنا چاہئے لیکن حقیقت کو چاہئے کہ تاویل کو نہ بگاڑے۔ اگر کوئی حقیقت برخلاف امر واقعی کے ہے تو بالمرہ حکم بطلان کا اس پر دینا چاہئے نہ کہ بطلان کو مروڑ کے حق بنانا۔ پنجم۔ امر کے بارہ میں جناب کی خدمت میں واضح ہو کہ لفظ بیٹے اور پہلو ٹھے کا بائیبل میں دو طرح پر بیان ہوا ہے یعنی ایک تو یہ کہ وہ یک تن ساتھ خدا کے ہو،دوم یہ کہ یک من ساتھ رضاءِ الٰہی کے ہو۔ (یک تن وہ ہے جو ماہیت میں واحد ہو۔ اور یک من وہ ہے جو ماہیت کا شریک نہیں بلکہ رضا کا شریک ہو)۔ کس نبی یا بزرگ کے بارہ میں بائیبل میں یہ لکھا ہے کہ اے تلوار میرے چرواہے اورؔ ہمتا پر اٹھ (زکریا ۱۳ - ۷) اور پھر کس کے بارہ میں ایسا لکھا ہے کہ تخت داؤدی پر یہود اصدقنو آوے گا (یرمیا) اور کس نے یہ کہا کہ میں الفا اور میگاو قادر مطلق خداوند ہوں اور کس کے بارہ میں یہ لکھا گیا کہ میں جو حکمت ہوں قدیم سے خدا کے ساتھ رہتی تھی اور میرے وسیلہ سے یہ ساری خلقت ہوئی اور یہ کہ جو کچھ خلقت کا ظہور ہے اسی کے وسیلہ سے ہے خدا باپ کو کسی نے نہیں دیکھا لیکن اکلوتے (خدا) نے اسے ظاہر کردیا (یوحنا ۱ - ۱۸) اب اس پر انصاف کیجیئے کہ یہ الفاظ متعلق یک تن کے ہیں یا یک من کے نیز یہ بھی ایک بات یاد رکھنے کے لائق ہے۔ یسعیاہ ۹ - ۶ میں کہ وہ جو بیٹا ہم کو بخشا جاتا ہے اور فرزند تولد ہوتا ہے وہ ان خطابوں سے مزیّن ہے یعنی خدائے قادر۔ اب ابدیت۔ شاہ سلامت۔ مشیر۔ عجوبہ۔ تخت داؤدی پر آنے والا جس کی سلطنت کا زوال کبھی نہ ہوگا۔ ششم جو آپ نے قرآن سے استدلال کیا ہے مجھے افسوس ہے کہ میں اب تک اس کے الہامی ہونے کا قائل نہیں جب آپ اس کو الہامی ثابت کرکے قائل کر دیں گے تو اس کی سندات آپ ہی مانی جائیں گی۔