دکھوں کے خدا ہی تھے یا ابن اللہ تھے اور درد ہم نے اس لئے کہا کہ بھوک بھی ایک قسم درد کی ہے اور اگر زیادہ ہوجائے تو موت تک نوبت پہنچاتی ہے۔
دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی
غلام قادر فصیح پریزیڈنٹ ازجانب اہل اسلام ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ ازجانب عیسائی صاحبان
جواب از طرف مسٹر عبداللہ آتھم صاحب مسیحی
اگر یہ جناب کا قول صحیح ہے کہ ہر امر کی حقیقت تجربہ ہی پر مدار رکھتی ہے یعنی جو تجربہ کے برخلاف ہےؔ وہ باطل ہے۔ تب تو ہم کو صفت خالقہ کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ کیونکہ ہمارے تجربہ میں کوئی چیز خلق نہیں ہوتی اور آدم کا بغیر والدین پیدا ہونے کا بھی انکار کرنا پڑے گا اور ہم یہ نہیں جانتے کہ ایسا ہم کیوں کریں کیونکہ ناممکن مطلق ہم اس کو کہتے ہیں جو کوئی امر کسی صفت ربّانی کے مخالف ہو اور یہ چیزیں جو ہمارے تجربہ کے باہر ہیں مثلاً خلقت کا ہونا یعنی بلا سامان کے عدم سے وجود میں آنا اور آدم کا بخلاف سلسلہ موجودہ کے پیدا ہونا ہم کسی صفت مقدسہ خدائے تعالیٰ کے مخالف نہیں دیکھتے۔
دوم۔ بجواب آپ کے دوسرے مقدمہ کے آپ کو یقین ہونا چاہئے کہ ہم اس شے مرئی کو جو کھانے پینے وغیرہ حاجتوں کے ساتھ ہے اللہ نہیں مانتے بلکہ مظہر اللہ کہتے ہیں اور یہ ایک ایسا مقدمہ ہے جیسا قرآن میں بابت اس آگ کے جو جھاڑی میں نظر آتی تھی لکھا ہے کہ اے موسیٰ اپنے نعلین دور کر کیونکہ یہ وادی طویٰ ہے اور کہ میں تیرے باپ ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کا خدا ہوں موسیٰ نے اس کو تسلیم کیا ۔اب فرمائیے شے مرئی تو خدا نہیں ہوسکتی اور رویت مرئی تھی پس ہم اس کو مظہر اللہ کہتے ہیں۔ اللہ نہیں کہتے۔ ویسے ہی یسوع مخلوق کو ہم اللہ نہیں کہتے بلکہ مظہر اللہ کہتے ہیں۔ کیا یہ ستون جو خشت و خاک کا سامنے نظر کے ہے اس میں سے اگر خدا آواز دے کر کہنا چاہے کہ میں تمہارا خدا ہوں اور میری فلاں بات سنو۔ توگو تجربہ کے برخلاف یہ امر ہے۔ توکیا