ہاں اس صورت میں بیٹوں کی میزان بہت بڑھ جائے گی۔ غرض کہ اللہجلّ شانہٗ نے سب سے پہلے ابطال الوہیت کے لئے بھی دلیل استقرائی پیش کی ہے۔ پھر بعد اس کے ایک اور دلیل پیش کرتا ہے ۱ یعنی والدہ حضرت مسیحؑ کی راستبازتھی۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اگر حضرت مسیحؑ کو اللہجلّ شانہٗ کاحقیقی بیٹافرض کرلیاجاوے توپھریہ ضروری امر ہے کہ وہ دوسروں کی طرح ایسی والد۵ہ کے اپنے تولد میں محتاج نہ ہوں جو باتفاق فریقین انسان تھی کیونکہ یہ بات نہایتؔ ظاہراور کھلی کھلی ہے کہ قانون قدرت اللہ جلّ شانہٗ کا اسی طرح پر واقع ہے کہ ہر ایک جاندار کی اولاد اس کی نو۶ع کے موافق ہوا کرتی ہے مثلاً دیکھو کہ جس قدر جانور ہیں مثلاً انسان اور گھوڑا اور گدھا اور ہر ایک پرندہ وہ اپنی اپنی نوع کے لحاظ سے وجود پذیر ہوتے ہیں یہ تو نہیں ہوتا کہ انسان کسی پرندہ سے پیدا ہو جاوے یا پرند کسی انسان کے پیٹ سے نکلے۔ پھر ایک تیسری دلیل یہ پیش کی ہے۔ ۲ یعنی وہ دونوں حضرت مسیحؑ اور آپ کی والدہ صدیقہ کھانا کھایا کرتے تھے۔ اب آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ انسان کیوں کھانا کھاتا ہے اور کیوں کھانا کھانے کا محتاج ہے۔ اس میں اصل بھید یہ ہے کہ ہمیشہ انسان کے بدن میں سلسلہ تحلیل۷ کا جاری ہے یہاں تک کہ تحقیقا ت قدیمہ اور جدیدہ سے ثابت ہے کہ چند سال میں پہلا جسم تحلیل پاکر معدوم ہوجاتا ہے اور دوسرا بدن بدل ما یتحلل ہوجاتا ہے اور ہر ایک قسم کی جو غذا کھائی جاتی ہے اس کا بھی روح پر اثر ہوتا ہے کیونکہ یہ امر بھی ثابت شدہ ہے کہ کبھی روح جسم پراپنا اثر ڈالتی ہے اورکبھی جسم روح پر اپنا اثر ڈالتا ہے جیسے اگر روح کو یکدفعہ کوئی خوشی پہنچتی ہے تو اس خوشی کے آثار یعنی بشاشت اور چمک چہرہ پر بھی نمودار ہوتی ہے اور کبھی جسم کے آثار ہنسنے رونے کے روح پر پڑتے ہیں اب جب کہ یہ حال ہے تو کس قدر مرتبہ خدائی سے یہ بعید ہوگا کہ اپنے اللہ کا جسم بھی ہمیشہ اُڑتار ہے اور تین چار برس کے بعد اور جسم آوے ماسوا اس کے کھانے کا محتاج ہونا بالکل اس مفہوم کے مخالف ہے۔ جو خدا تعالیٰ کی ذات میں مسلّم ہے۔ اب ظاہر ہے کہ حضرت مسیحؑ ان حاجتمندیوں سے بری نہیں تھے جو تمام انسان کو لگی ہوئی ہیں۔ پھر یہ ایک عمدہ دلیل اس بات کی ہے کہ وہ باوجود ان دردوں اور