ان تحریرات پر بھروسہ کرکے کہ جن کے بصورت صحت بھی بیس بیس معنے ہوسکتے ہیں وہ معنی اختیار کرے جو حقائق ثابت شدہ سے بالکل مغائر اور منافی پڑے ہوئے ہیں مثلاً اگر ایک ڈاکٹر ہی سے اس بات کا تذکرہ ہو کہ سم الفار اور وہ زہر جو تلخ بادام سے تیار کیا جاتا ہے اور بیش یہ تمام زہریں نہیں ہیں۔ اور اگر ان کو دو دو سیر کے قدر بھی انسان کے بچوں کو کھلایا جاوے تو کچھ ہرج نہیں۔ اورؔ اس کا ثبوت یہ دیوے کہ فلاں مقدس کتاب میں ایسا ہی لکھا ہے اورراوی معتبر ہے تو کیا وہ ڈاکٹر صاحب اس مقد س کتاب کا لحاظ کرکے ایک ایسے امر کو چھوڑ دیں گے جو قیاس استقرائی سے ثابت ہوچکا ہے۔ غرض جب کہ قیاس استقرائی دنیا کے حقائق ثابت کرنے کے لئے اول درجہ کا مرتبہ رکھتا ہے تو اسی جہت سے اللہ جلّ شانہٗ نے سب سے پہلے قیاس استقرائی کو ہی پیش کیا۔ اور فرمایا ۱؂ یعنی حضرت مسیح علیہ السلام بیشک نبی تھے اور اللہ جلّ شانہٗ کے پیارے رسول تھے مگر وہ انسان تھے۔ تم نظر اٹھا کر دیکھو کہ جب سے یہ سلسلہ تبلیغ اور کلام الٰہی کے نازل کرنے کا شروع ہوا ہے ہمیشہ اور قدیم سے انسان ہی رسالت کا مرتبہ پاکر دنیا میں آتے رہے ہیں یا کبھی اللہ تعالیٰ کا بیٹا بھی آیا ہے اور خَلَتْکا لفظ اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ جہاں تک تمہاری نظر تاریخی سلسلہ کو دیکھنے کے لئے وفا کرسکتی ہے اور گذشتہ لوگوں کا حال معلوم کرسکتے ہو خوب سوچو اور سمجھو کہ کبھی یہ سلسلہ ٹوٹا بھی ہے۔ کیا تم کوئی ایسی نظیر پیش کرسکتے ہو جس سے ثابت ہوسکے کہ یہ امر ممکنات میں سے ہے۔ پہلے بھی کبھی کبھی ہوتا ہی آیا ہے۔ سو عقلمند آدمی اس جگہ ذرہ ٹھہر کر اور اللہ جلّ شانہٗ کا خوف کرکے دل میں سوچے کہ حادثات کا سلسلہ اس بات کو چاہتا ہے کہ اس کی نظیر بھی کبھی کسی زمانہ میں پائی جاوے۔ ہاں اگر بائبل کے وہ تمام انبیاء اور صلحاء جن کی نسبت بائبل میں بھی الفاظ موجود ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے بیٹے تھے یا خدا تھے حقیقی معنوں پر حمل کر لئے جاویں تو بیشک اس صورت میں ہمیں اقرار کرنا پڑے گا کہ خدائے تعالیٰ کی عادت ہے کہ وہ بیٹے بھی بھیجا کرتا ہے بلکہ بیٹے کیا کبھی کبھی بیٹیاں بھی۔ اور بظاہر یہ دلیل تو عمدہ معلوم ہوتی ہے اگر حضرات عیسائی صاحبان اس کو پسند فرماویں اور کوئی اس کو توڑ بھی نہیں سکتا کیونکہ حقیقی غیر حقیقی کا تو وہاں کوئی ذکر ہی نہیں بلکہ بعض کو تو پہلوٹا ہی لکھ دیا۔