مرتبہ ہے کہ اگر یقینی اور قطعی مرتبہ سے اس کو نظر اندار کر دیا جائے تو دین و دنیا کا تمام سلسلہ بگڑ جاتا ہے۔ اگر ہم غور سے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ حصہ کثیرہ دنیا کا اور ازمنہ گذشتہ کے واقعات کا ثبوت اسی استقراء کے ذریعہؔ سے ہوا ہے۔ مثلاً ہم جو اس وقت کہتے ہیں کہ انسان منہ سے کھاتا اور آنکھوں سے دیکھتا اور کانوں سے سنتا اور ناک سے سونگھتا اور زبان سے بولتا ہے اگر کوئی شخص کوئی مقدس کتاب پیش کرے اور اس میں یہ لکھا ہوا ہو کہ یہ واقعات زمانہ گذشتہ کے متعلق نہیں ہیں۔ بلکہ پہلے زمانہ میں انسان آنکھوں کے ساتھ کھایا کرتا تھا اور کانوں کے ذریعہ سے بولتا تھا۔ اور ناک کے ذریعہ سے دیکھتا تھا ایسا ہی اور باتوں کو بھی بدل دے۔ یا مثلاً یہ کہے کہ کسی زمانہ میں انسان کی آنکھیں دو نہیں ہوتی تھیں بلکہ بیس ہوتی تھیں۔ دس تو سامنے چہرہ میں اور دس پشت پر لگی ہوئی تھیں تو اب ناظرین سوچ سکتے ہیں کہ گو فرض کے طورپر ہم تسلیم بھی کر لیں کہ ان عجیب تحریروں کا لکھنے والا کوئی مقدس اور راستباز آدمی تھا۔ مگر ہم اس یقینی نتیجہ سے کہاں اور کدھر گریز کرسکتے ہیں جو قیاس استقرائی سے پیدا ہوا ہے۔ میری رائے میں ایسا بزرگ اگر نہ صرف ایک بلکہ کروڑ سے بھی زیادہ اور قیاس استقرائی سے نتائج قطعیہ یقینیہکو توڑنا چاہیں تو ہرگز ٹوٹ نہیں سکیں گے بلکہ اگر ہم منصف ہوں اور حق پسندی ہمارا شیوہ ہوتو اس حالت میں کہ اس بزرگ کو ہم درحقیقت ایک بزرگ سمجھتے ہیں اور اس کے الفاظ میں ایسے ایسے کلمات خلاف حقائق مشہودہ محسوسہ کے پاتے ہیں تو ہم اُس کی بزرگی کی خاطر سے صَرف عَنِ الظاھرکریں گے اور ایسی تاویل کریں گے جس سے اس بزرگ کی عزت قائم رہ جاوے۔ ورنہ یہ تو ہرگز نہ ہوگا کہ جو حقائق استقراء کے یقینی اور قطعی ذریعہ سے ثابت ہوچکے ہیں وہ ایک روایت دیکھ کر ٹال دیئے جاویں۔ اگر ایسا کسی کا خیال ہوتو یہ بار ثبوت اس کی گردن پر ہے کہ وہ استقراء مثبتہ موجودہ قطعیہ یقینیہ کے برخلاف اس روایت کی تائید اور تصدیق میں کوئی امر پیش کردیوے۔ مثلاً جو شخص اس بات پر بحث کرتا اور لڑتا جھگڑتا ہے کہ صاحب ضرور پہلے زمانہ میں لوگ زبان کے ساتھ دیکھتے اور ناک کے ساتھ باتیں کیا کرتے تھے تو اس کا ثبوت پیش کرے۔ اور جب تک ایسا ثبوت پیش نہ کرے تب تک ایک مہذّب عقلمند کی شان سے بہت بعید ہے کہ