سوالؔ الوہیت مسیحؑ پر
۲۲؍ مئی ۱۸۹۳ ء
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِط
اَلحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ والسَّلامُ عَلٰی رسُولِہٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ
امّا بعد واضح ہو کہ بموجب شرائط قرار دادہ پرچہ علیحدہ مورخہ ۲۴؍ اپریل ۱۸۹۳ ء پہلا سوال ہماری طرف سے یہ تجویز ہوا تھا کہ ہم الوہیت حضرت مسیح علیہ السلام کے بارہ میں مسٹر عبداللہ آتھم صاحب سے سوال کریں گے۔ چنانچہ مطابق اسی شرط کے ذیل میں لکھا جاتا ہے۔
واضح ہو کہ اس بحث میں یہ نہایت ضروری ہوگا کہ جو ہماری طرف سے کوئی سوال ہو۔ یا ڈپٹی عبداللہ آتھم کی طرف سے کوئی جواب ہو وہ اپنی طرف سے نہ ہو بلکہ اپنی اپنی الہا۱می کتاب کے حوالہ سے ہو جس کو فریق ثانی حجت سمجھتا ہو۔ اور ایسا ہی ہر ایک دلیل۲ اور ہر ایک دعو۳یٰ جو پیش کیا جاوے وہ بھی اسی التزام سے ہو غرض کوئی فریق اپنی اس کتاب کے بیان سے باہر نہ جائے جس کا بیان بطور حجت ہوسکتا ہے۔
بعد اس کے واضح ہو کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت کے بارہ میں قرآن کریم میں بغرض رد کرنے خیالات ان صاحبوں کے جو حضرت موصوف کی نسبت خدا یا ابن اللہ کا اعتقاد رکھتے ہیں یہ آیات موجود ہیں۔
۱۔ سیپارہ۶ر ۱۴ ۔یعنی حضرت مسیح ابن مریم میں اس سے زیادہ کوئی بات نہیں کہ وہ صرف ایک رسول ہے اور اس سے پہلے بھی رسول ہی آتے رہے ہیں اور یہ کلمہ کہ اس سے پہلے بھی رسول ہی آتے رہے ہیں۔ یہ قیا۴س استقرائی کے طور پر ایک استدلال لطیف ہے کیونکہ قیاسات کے جمیع اقسام میں سے استقراء کا مرتبہ وہ اعلیٰ شان کا