تعلیم کی نسبت آپ بیان فرماتا ہے اور پھر آگے چل کر اس کا ثبوت بھی آپ ہی دے گا۔ لیکن چونکہ اب وقتؔ تھوڑا ہے اس لئے وہ ثبوت جواب الجواب میں لکھایا جاوے گا۔ بالفعل ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب کی خدمت میں یہ التماس ہے کہ بپابندی ان امور کے جو ہم پہلے لکھ چکے ہیں۔ انجیل شریف کا دعویٰ بھی اسی طرز اور اسی شان کا پیش کریں کیونکہ ہر ایک منصف جانتا ہے کہ ایسا تو ہرگز ہو نہیں سکتا کہ مدعی سست اور گواہ چست۔ خاص کر اللہ جلّ شانہٗ جو قوی اور قادر اور نہایت درجہ کے علوم وسیع رکھتا ہے جس کتاب کو ہم اس کی طرف منسوب کریں وہ کتاب اپنی ذات کی آپ قیّوم چاہئے۔ انسانی کمزوریوں سے بالکل مبرّا اور منزّہ چاہئے۔ کیونکہ اگر وہ کسی دوسرے کے سہارا کی اپنے دعویٰ میں اور اثبات دعویٰ میں محتاج ہے تو وہ خدا کا کلام ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اور یہ مکرر یاد رہے کہ اس وقت صرف مدعا یہ ہے کہ جب قرآن کریم نے اپنی تعلیم کی جامعیت اور کاملیت کا دعویٰ کیا ہے۔ یہی دعویٰ انجیل کا وہ حصہ بھی کرتا ہو۔ جو حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ اور کم سے کم اس قدر تو ہو کہ حضرت مسیحؑ اپنی تعلیم کو مختتم قرار دیتے ہوں اور کسی آئندہ وقت پر انتظار میں نہ چھوڑتے ہوں۔
نوٹ
یہ سوال اس قدر لکھا گیا تھا تو اس کے بعد فریق ثانی نے اس بات پر اصرار کیا کہ سوال نمبر ۲ بحث کے کسی دوسرے موقعہ میں پیش ہو۔ بالفعل الوہیت مسیح کے بارے میں سوال ہونا چاہئے چنانچہ ان کے اصرار کی وجہ سے یہ سوال جو ابھی غیر مختتم ہے اسی جگہ چھوڑا گیا بعد میں بقیہ اس کا شائع کیا جائے گا۔