جوہرؔ ایک امر میں سچا فیصلہ دیتا ہے۔ اور انتہائی درجہ کی حکمت ہے ۱(سیپارہ ۲۷ رکوع ۱۶) ۲ یعنی میں قسم کھاتا ہوں مطالع اورمناظر نجوم کی اور یہ قسم ایک بڑی قسم ہے۔ اگرتمہیں حقیقت پر اطلاع ہوکہ یہ قرآن ایک بزرگ اورعظیم الشان کتاب ہے اور اس کو وہی لوگ چھوتے ہیں جو پاک باطن ہیں۔ اور اس قسم کی مناسبت اس مقام میں یہ ہے کہ قرآن کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ وہ کریم ہے یعنے روحانی بزرگیوں پر مشتمل ہے اور بباعث نہایت بلند اور رفیع دقائق حقائق کے بعض کوتاہ بینوں کی نظروں میں اسی وجہ سے چھوٹامعلوم ہوتا ہے جس وجہ سے ستارے چھوٹے اور نقطوں سے معلوم ہوتے ہیں اور یہ بات نہیں کہ درحقیقت وہ نقطوں کی مانند ہیں بلکہ چونکہ مقام ان کانہایت اعلیٰ وارفع ہے اس لئے جونظریں قاصر ہیں ان کی اصل ضخامت کو معلوم نہیں کرسکتیں۔3 3۳(سیپارہ ۲۵۔ر ۱۴) ہم نے قرآن کو ایک ایسی بابرکت رات میں اتارا ہے جس میں ہر ایک امر ُ پرحکمت تفصیل کے ساتھ بیان کیاگیا ہے اس سے مطلب یہ ہے کہ جیسے ایک رات بڑی ظلمت کے ساتھ نمودار ہوئی تھی۔ اسی کے مقابل پر اس کتاب میں انوارعظیمہ رکھے گئے ہیں جو ہر ایک قسم کے شک اور شبہ کی ظلمت کو ہٹاتے ہیں اور ہر ایک بات کا فیصلہ کرتے ہیں اور ہرایک قسم کی حکمت کی تعلیم کرتے ہیں ۴(سیپارہ ۳ رکوع ۲)اللہ دوستدار ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے اور ان کو اندھیرے سے روشنی کی طرف نکالتا ہے۔ ۵ (س۲۹ر۵)۶(سیپارہ۲۷رکوع۱۶)۷ (س۳۰ر۶) یعنی قرآن متقیوں کو وہ سارے امور یاد دلاتا ہے جو ان کی فطرت میں مخفی اور مستور تھے اور یہ حق محض ہے جو انسان کو یقین تک پہنچاتا ہے اور یہ غیب کے عطا کرنے میں بخیل نہیں ہے یعنی بخیلوں کی طرح اس کایہ کام نہیں کہ صرف آپ ہی غیب بیان کرے اور دوسرے کو غیبی قوت نہ دے سکے بلکہ آپ بھی غیب پرمشتمل ہے۔ اور پیروی کرنے والے پر بھی فیضان غیب کرتا ہے۔ یہ قرآن کا دعویٰ ہے جس کو وہ اپنی