پھرؔ فرماتا ہے۔ ۱؂ (سیپارہ۶رکوع۵)یعنی آج میں نے تمہارے لئے دین تمہارا کامل کردیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کردی اور میں نے تمہاریلئے اسلام کو پسندیدہ کرلیا۔ ۲؂ (سیپارہ۲۶رکوع۱۲)وہ خدا جس نے اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا وہ اس دین کو تمام دینوں پر غالب کرے۔ پھر اللہ جلّ شانہٗ چند آیتیں قرآن کریم کی تعریف میں جو دین اسلام کو پیش کرتا ہے فرماتا ہے چونکہ قرآن کریم کی تعریف درحقیقت دین اسلام کی تعریف ہے اس لئے وہ آیتیں بھی ذیل میں لکھی جاتی ہیں۔ ۳؂ (سیپارہ ۱۵ رکوع ۱۰) اور البتہ طرح طرح بیان کیا ہم نے واسطے لوگوں کے قرآن میں ہر ایک مثال سے پس انکار کیا اکثر لوگوں نے مگر کفر کرنا۔ یعنی ہم نے ہر ایک طور سے دلیل اور حجت کے ساتھ قرآن کو پورا کیا۔ مگر پھر بھی لوگ انکار سے باز نہ آئے۔ (س۲۵؍۳) ۴؂ (سیپارہ ۱۱ رکوع ۹) ۵؂ یعنی خدا وہ ہے جس نے کتاب یعنی قرآن شریف کو حق اور میزان کے ساتھ اتارا یعنی وہ ایسی کتاب ہے جو حق اور باطل کے پرکھنے کے لئے بطور میزان کے ہے۔ ۶ ؂ (سیپارہ ۱۳ رکوع ۸) ترجمہ آسمان سے پانی اتارا پس ہر ایک وادی اپنے اپنے قدر میں بہ نکلا۔ ۷؂ (سیپارہ ۱۵ رکوع ۱)یہ قرآن اس تعلیم کی ہدایت کرتا ہے جو بہت سیدھی اور بہت کامل ہے۔ ۸؂کہ اگرجن اورانس سب اس بات پر اتفاق کریں کہ اگر اور کتاب جو کمالات قرآنی کا مقابلہ کرسکے پیش کرسکیں تو نہیں پیش کر سکیں گے اگرچہ وہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں۔ پھر ایک اور جگہ فرماتا ہے۔ ۹؂ (سیپارہ۷۔رکوع۱۰) یعنی تعلیمات ضروریہ میں سے کوئی چیز قرآن سے باہر نہیں رہی اور قرآن ایک مکمل کتاب ہے جو کسی دوسری مکمل کا منتظر نہیں بناتا۔ ۱۰؂ (سیپارہ ۳۰ رکوع ۱۱) ۱۱؂ (س ۲۷ر۸)قرآن قول فصل