تقریرؔ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم الحَمْدُ للّٰہِ رَبِّ العٰلمِیْن والصلوۃ والسّلام علٰی رسُولہ مُحمّدٍ وَّآلہ واَصْحابہٖ اجمعین امّا بَعْد واضح ہو کہ آج کا روز جو ۲۲؍ مئی ۱۸۹۳ ؁ء ہے اس مباحثہ اور مناظرہ کا دن ہے جو مجھ میں اور ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب میں قرار پایاہے۔ اور اس مباحثہ سے مدعا اور غرض یہ ہے کہ حق کے طالبوں پر یہ ظاہر ہو جائے کہ اسلام اور عیسائی مذہب میں سے کونسا مذہب سچا اور زندہ اور کامل اور منجانب اللہ ہے اور نیز حقیقی نجات کس مذہب کے ذریعہ سے مل سکتی ہے۔ اس لئے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ پہلے بطور کلام کلّی کے اسی امر میں جو مناظرہ کی علت غائی ہے انجیل شریف اور قرآن کریم کا مقابلہ اور موازنہ کیا جاوے لیکن یہ بات یاد رہے کہ اس مقابلہ اور موازنہ میں کسی فریق کا ہرگز یہ اختیار نہیں ہوگا کہ اپنی کتاب سے باہر جاوے یا اپنی طرف سے کوئی بات منہ پر لاوے بلکہ لازم اور ضروری ہوگا کہ جو دعویٰ کریں وہ دعویٰ اس الہامی کتاب کے حوالہ سے کیا جاوے جو الہامی قرار دی گئی ہے اور جو دلیل پیش کریں وہ دلیل بھی اسی کتاب کے حوالہ سے ہو کیونکہ یہ بات بالکل سچی اور کامل کتاب کی شان سے بعید ہے کہ اس کی وکالت اپنے تمام ساختہ پرداختہ سے کوئی دوسرا شخص کرے اور وہ کتاب بکلی خاموش اور ساکت ہو۔ اب واضح ہو کہ قرآن کریم نے اسلام کی نسبت جس کو وہ پیش کرتا ہے یہ فرمایا ہے ۱؂ (س۳ر۱۰) ۲؂(سیپارہ۳رکوع ۱۷) ترجمہ یعنی دین سچا اور کامل اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسلام ہے اور جو کوئی بجز اسلام کے کسی اور دین کو چاہے گا تو ہرگز قبول نہیں کیا جاوے گا اور وہ آخرت میں زیاں کاروں میں سے ہوگا۔