روؔ ئیداد جلسہ ۲۲ مئی ۱۸۹۳ ؁ء ۲۲؍ مئی ۱۸۹۳ء کو سوموار کے روز ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب کی کوٹھی میں جلسہ مباحثہ منعقد ہوا۔ سوا چھ بجے کاروائی شروع ہوئی۔ مسلمانوں کی طرف سے منشی غلام قادر صاحب فصیح وائس پریزیڈنٹ میونسپل کمیٹی سیالکوٹ میر مجلس قرار پائے اور عیسائیوں کی طرف سے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب میر مجلس قرار پائے۔ مرزا صاحب کے معاون مولوی نور الدین صاحب حکیم۔ سید محمد احسن صاحب اور شیخ الہ دیا صاحب قرار پائے اور ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب کے معاون پادری جے ایل ٹھاکر داس صاحب اور پادری عبداللہ صاحب اور پادری ٹامس ہاول صاحب قرار پائے۔ چونکہ پادری جے ایل ٹھاکر داس صاحب آج تشریف نہیں لائے تھے۔ اس لئے آج کے دن ان کی بجائے پادری احسان اللہ صاحب معاون مقرر کئے گئے۔ سوا چھ بجے مرزاصاحب نے سوال لکھانا شروع کیا اور سوا سات بجے ختم کیا۔ اور بلند آواز سے جلسہ کو سنایا گیا۔ پھر ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب نے اپنا اعتراض پیش کرنے میں صرف پانچ منٹ خرچ کئے پھر مرزا صاحب نے جواب الجواب لکھایا۔ مگر اس پر یہ اعتراض پیش ہوا کہ مرزا صاحب نے جو سوال لکھایا ہے وہ شرائط کی ترتیب کے موافق نہیں یعنی پہلا سوال الوہیت مسیح کے متعلق ہونا چاہئے اس پر شرائط کی طرف توجہ کی گئی انگریزی اصلی شرائط اور ترجمہ کا مقابلہ کیا گیا اور معلوم ہوا کہ مرزا صاحب کے پاس جو ترجمہ ہے اس میں غلطی ہے بنا براں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ الوہیت مسیح پر سوال شروع کیا جائے اور جو کچھ اس سے پہلے لکھایا گیا ہے اپنے موقع پر پیش ہو۔ ۸ بجے ۲۶ منٹ پر مرزا صاحب نے الوہیت مسیح پر سوال لکھانا شروع کیا۔ ۹ بجے ۱۵ منٹ پر ختم کیا اور بلند آواز سے سنایا گیا۔ مسٹر عبداللہ آتھم صاحب نے نو بجے ۳۰ منٹ پر جواب لکھانا شروع کیا اور ان کا جواب ختم نہ ہوا تھا کہ ان کا وقت گزر گیا۔ اس پر مرزا صاحب اور میر مجلس اہل اسلام کی طرف سے اجازت دی گئی کہ مسٹر موصوف اپنا جواب ختم کر لیں اور پانچ منٹ کے زائد عرصہ میں جواب ختم کیا۔ بعدازاں فریقین کی تحریروں پر پریزیڈنٹوں کے دستخط ہوئے اور مصدقہ تحریریں ایک دوسرے فریق کو دی گئیں اور جلسہ برخاست ہوا۔ دستخط بحروف انگریزی ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ ازجانب عیسائی صاحبان۔ دستخط بحروف انگریزی غلام قادر فصیح پریزیڈنٹ ازجانب اہل اسلام۔