عرب نہیں لکھ سکتا ہندوستانی کو توکیا طاقت ہے۔ قصیدہ نعتیہ دکھایا پڑھ کر رو دیا اور کہا خدا کی قسم میں نے اس زمانہ کے عربوں کے اشعار کو کبھی پسند نہیں کیا اور ہندیوں کا تو کیا ذکر ہے مگر ان اشعار کو حفظ کروں گا۔ اور کہا واللہ جو شخص اس سے بہتر عبارت کا دعویٰ کرے چاہے عرب ہی کیوں نہ ہو۔ وہ ملعون مسیلمہ کذّ اب ہے۔ تمّ کلامہ میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ کلام ربّانی اور تائید سبحانی کا اعجاز ہے آدمی کا کام نہیں۔ میں نے حضرت کو اپنی جان اور اپنی اہل اور اولاد میں مالک کر دیا۔ محبت نامہ فاضل عربی اس عاجز کی طرف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ یا من انشد نسیم الاشتیاق عن وسیم وصفہ واستنشق عباھر الازاھر من شمیم عطرہ وعبیر عرفہ احیط حضرتک العالیۃ باسرار الا سرار واعیذ سعادتک السامیۃ من نوائب الا قد ار لا زالت سفن نجاتک تجری فی بحار العلوم والو یۃ سیادتک معقودۃ لحل اشکالات المنطوق والمفھوم ولا برحت الجباہ لعلوحضرتک ساجدۃ والافواہ بالثناء علی محاسن ذاتک شاھدۃ لا احصی ثنائی علیک ولا دعائی وشوقی الیک السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ و برکاتہ تحیۃ عن ؔ وِدٍّ اکیدٍ و قلب لم یکدرہ تنکید اما بعد فان راقم الاحرف قدھبت بہ نسیم الامال و زعزعتہ لواعج الانتقال حتی قذفتہ سھام الا قدار فی بلدۃ ھذہ الدیار فجمعتہ طرق الا تفاق بتقدیر الملک الخلاق بالاخ الرفیق والمولی الشفیق الحافظ المولوی محمد یعقوب وقاہ اللہ من ورطات العیوب و وھدات الذنوب فی بلدۃ دھرہ دون لازال رحبھا بالمواھب الالٰھیۃ مشحون فاخذنا نجنی ثمار الاخبار و ندیر اقداح التذکار عما مضٰی و تقدم من الازمان والاثار حتی افضی بنا الحدیث الی ھذا الزمان فذکرت حضرتکم العلیۃ فسئلتہٗ عن بیانھا بوجہ التفصیل والایضاح فاخبرنی بالجناب ومناقبہ بماکان اھلا لہ حتی