کا یہ بیان ڈاکٹر صاحب کی نظر میں محمول برمبالغہ نہ ہو تو ڈاکٹر صاحب کسی ایسے جلسہ مباحثہ میں جو علماء مخالفین اور اس عاجز کے گروہ کے فاضل علماء میں واقعہ ہو خود شامل ہوکر دیکھ لیں بلکہ عنقریب ایک ایسا جلسہ مباحثہ ۱۵ جون ۱۸۹۳ ؁ء تک ہونے والا ہے جس میں فریق مخالف مولوی غلام دستگیر اور ان کے ہم مشرب تمام علماء لاہور کے ہوں گے اور اس طرف سے کوئی ایک یا دو فاضل مقابلہ کے لئے تجویز کئے جائیں گے پھر پادری صاحب بچشم خود دیکھ سکتے ہیں کہ علماء رّ بانی اور مستند فاضل کس طرف ہیں اور نام کے مولوی اور ژولیدہ زبان کس طرف۔ نقل مشہور ہے شنیدہ کے بود مانند دیدہ۔ ایک دشمن بخیل کی قلم سے جو نکلے وہ یکطرفہ بیانؔ عقلمند کی نظر میں ہرگز وقعت اور عزت نہیں رکھتا بلکہ ہریک حقیقت عندالامتحان کھلتی ہے۔ ماسوااس کے ڈاکٹر صاحب یہ بھی جانتے ہیں کہ اسلام کے مستند علماء کا تخت گاہ حرمین شریفین ہے زاد ھما اللّٰہ مَجْدًا وشرفًاوبرکۃً اور اسلام میں یہی بلاد عرب خاص کرکے مکہ و مدینہ دین کا گھر سمجھے جاتے ہیں سو ان متبرک مقامات کے جگر گوشہ اور فاضل مستند بھی اس عاجز کے ساتھ شامل ہوتے جاتے ہیں۔ چنانچہ بطور نمونہ تین بزرگوں کی تحریرات ذیل میں لکھتا ہوں۔ (ایک فاضل عرب کی اس عاجز کی کتاب آئینہ کمالات اسلام اور تبلیغ کے اعلیٰ درجہ کی بلاغت پر گواہی جو ایک بلدہ عظیمہ میں تعلیم ادب وغیرہ کے مدرس ہیں) اخی مکرم مولوی حافظ محمد یعقوب صاحب سلمہ ڈیرہ دون سے لکھتے ہیں کہ میں ایمان لاتاہوں اس بات پر کہ آپ امام زمانہ ہیں مؤید من اللہ ہیں علماء کو اللہ تعالیٰ نے ضرور آپ کا شکار بنایا ہے یا غلام، آپ کا مخالف کبھی کامیاب نہ ہوگا مجھے اللہ تعالیٰ آپ کے خادموں میں زندہ رکھے اور اسی میں مارے۔ اے خدا تو ایسا ہی کر ایک عرب عالم اس وقت میرے پاس بیٹھے ہیں شامی ہیں۔ سید ہیں۔ بڑے ادیب ہیں ہزاروں اشعار عرب عاربہ کے حفظ ہیں ان سے آپ کے بارے میں گفتگو ہوئی وہ عالم متبحر اور میں عامی محض مگر توفی کے معنے میں کچھ بنؔ نہ پڑا۔ آپ کی عبارت آئینہ کمالات اسلام جو عربی ہے ان کو دکھائی گئی۔ کہا واللہ ایسی عبارت