اور عیسائی بھی اس سے باہر نہیں اور ہم ایسے مولویوں کو خود مفسد سمجھتے ہیں جو ایک مسلمان مؤید اسلام کو کافر ٹھہراتے ہیں۔ اطلاعؔ عام شیخ بٹالوی صاحب اشاعۃ السنۃ نے دو مرتبہ یہ پختہ عہد کیا تھا کہ میں اس خط کا جواب جو عربی تفسیراور قصیدہ بالمقابل کے بارہ میں اس طرف سے بطور اتمام حجت کے لکھا گیا تھا فلاں فلاں تاریخ کو ضرور بھیج دوں گا تخلّف نہیں ہوگا۔ اب ان دونوں تاریخوں پر سولہ دن اور گذر گئے اور خدا جانے ابھی کس قدر گذرتے جائیں گے۔ شیخ صاحب کا بار بار وعدہ کرنا اور پھر توڑنا صاف دلالت کررہا ہے کہ وہ اب کسی مصیبت میں مبتلا ہورہے ہیں اور تین روز کا ذکر ہے کہ ایک مجمل پیغام مجھ کو امرتسر سے پہنچا کہ بعض مولوی صاحب کہتے ہیں کہ اس مباحثہ میں اگر مسیح کی وفات حیات کے بارہ میں بحث ہوتی تو ہم اس وقت ضرور ڈاکٹر کلارک صاحب کے ساتھ شامل ہوجاتے۔ لہذا عام طور پر شیخ جی اور ان کے دوسرے رفیقوں کو اطلاع دی جاتی ہے بلکہ قسم دی جاتی ہے کہ یہ بخار بھی نکال لو۔ حیات وفات مسیح کے بارے میں ڈاکٹر کلارک صاحب کے ساتھ ضرور بحث ہوگی بیشک اس کی مدد کرو۔ واعْلَمُوْا انّ اللّٰہ یُخْزِی الکَاذِبِین وَاٰخرُ دَعْوَانا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ ڈاکٹرؔ مارٹن کلارک صاحب کے ایک وہم کا ازالہ ڈاکٹر صاحب نے اپنے اشتہار ۱۲ مئی ۱۸۹۳ ؁ء میں جو بطور ضمیمہ نور افشاں لدہانہ کے شائع ہوا ہے۔ شیخ بٹالوی صاحب کی کتاب اشاعۃ السنۃ سے یہ دھوکا کھایا ہے یا لوگوں کو دھوکا دینا چاہا ہے کہ گویا مستند علما ء اسلام کے اس عاجز کو کافر قرار دیتے ہیں اس لئے عام و خاص کی اطلاع کے لئے لکھا جاتا ہے کہ تمام مستند علماء اسلام جن کو خدا تعالیٰ نے علم و عمل بخشا ہے اور نور فراست ایمانیہ عطا کیا ہے وہ میرے ساتھ ہیں اور اس وقت چالیس کے قریب ہیں اور فریق ثانی کے ساتھ اکثر ایسے لوگ ہیں جو صرف نام کے مولوی اور علمی اور عملی کمالات سے تہیدست ہیں اگر اس عاجز