دیکھتے ہیں تو وہ یہی گواہی دے رہا ہے چنانچہ اس کی عبارت یہ ہے۔ آپ (اے باشندگان جنڈیالہ) ایک ایسے بزرگ کو (یعنی اس عاجز کو ) بحث کے لئے پیش کرتے ہو جن کو اولاً ایک محمدی شخص بھی تصور کرنا مشکل ہے۔ آپ کن خیالوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔ کیا آپ نے وہ فتوے جو کہ علماء اسلام پنجاب و ہندوستان نے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے حق میں شائع کئے ہیں نہیں دیکھے۔ وہ فتاویٰ مذکورہ میں یوں لکھتے ہیں۔ جو کچھ ہم نے سوال سائل کے جواب میں کہا اور قادیانی کے حق میں فتویٰ دیا ہے وہ صحیح ہے کتاب و سنت و اقوال علماء امت اس کی صحت پر شاہد ہیں سب مسلمانوں کو چاہئے کہ ایسے دجال کذاب سے احتراز اختیار کریں اور اس سے وہ دینی معاملات نہ کریں جو کہ اہل اسلام میں باہم ہونے چاہئیں نہ اس کی صحبت اختیار کریں اور نہ اس کو ابتداءً سلام کریں اور نہ اس کو دعوت مسنون میں بلاویں اور نہ اس کی دعوت قبول کریں اور نہ اس کے پیچھے اقتداکریں اورؔ نہ اس کی نماز جنازہ پڑھیں۔ یہ دین کے چور ہیں بیماری بڑھاتے ہیں۔ دجّال۔ کذاب۔ ملعون۔ ملحد۔ دائرہ اسلام سے خارج کافر بلکہ اکفر پلید۔ کھچری ابلیس کا گمراہ کیا ہوا اور اوروں کا گمراہ کرنے والا۔ سنت و جماعت سے خارج بڑا بھاری دجال بلکہ عم دجّال اور دین کے ذریعہ سے دنیا کمانے والا۔اور اگر مفصل دیکھنا ہو تو کتاب اشاعۃ السنۃ النبویہ مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب سے منگوا کر دیکھ سکتے ہیں قیمت ۸عہ ؍ہے لاہور سے مل سکتی ہے۔ آپ عجب غفلت میں پڑے ہیں کہ اب تک اس کتاب کو نہیں دیکھا۔ آفرین آپ پر اور جنڈیالہ کے اہل اسلام کی ہمت پر جس کا جنازہ بھی جائز نہیں اسی کو آپ نے پیشوا مقرر کیا۔ واہ صاحب واہ آپ کی یہ خوش فہمی۔ اب غور سے دیکھنا چاہئے کہ پادری صاحب نے میاں بٹالوی اور ان کی اشاعت سنۃ سے کیا کچھ فائدہ اٹھایا ہے اور ہمارے حضرات مکفّرین نے کیا کچھ مخالفوں کو موقعہ دیدیا۔ مگر یہ مقام خوشی کا ہے کہ اس ُ پرفتنہ خط کو دیکھ کر جو اشاعۃ السنۃ کے حوالہ سے لکھا گیا تھا جنڈیالہ کے قوی الایمان لوگوں نے ایک ذرہ جنبش نہیں کھائی اور میاں محمد بخش نے جنڈیالہ سے نہایت دندان شکن جواب حضرات پادری صاحبوں کو دیا اور لکھا کہ کوئی مذہب اختلاف سے خالی نہیں