بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم پادری صاحبوں کو جو شیخ بٹالوی محمد حسین صاحب کے اشاعۃ السنۃ سے مذہبی امور میں ایک نمایاں مدد پہنچی اس کا ذکر امریکن مشن پریس لدھیانہ میں ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک ایم ڈی میڈیکل مشنری امرتسرکی طرف سے ایک اشتہار اس عاجز کے مقابل پر ۱۲ مئی ۱۸۹۳ء کو چھپا ہے جس میں شیخ محمد حسین المعروف مولوی ساکن بٹالہ کا ایک پیرایہ میں شکر یہ بیان کیا گیا ہے اور درحقیقت عیسائیوں کے لئے مقام شکر تھا کیونکر ڈاکٹر صاحب اس عاجز کے مقابلہ پر اسلام اور عیسائی مذہب کی تنقید اور تحقیق اور حق و باطل کے پرکھنے کے لئے مباحثہ منظورتوکر بیٹھے مگر پیچھے سے غور کرنے کے بعد ڈاکٹر صاحب پر کچھ خوفناک سی حالت طاری ہوگئی۔ سچ ہے کہ انسان کو خدا بنانے کے وقت عند المقابلہ بدن کانپ جاتا ہے۔ خدا خدا ہی ہے اور انسان انسان۔ چہ نسبت خاک را باقادرِ پاک۔ غرض جب یہ دھڑکا حضرات پادری صاحبوں کو دامن گیر ہوا کہ ایسا نہ ہو کہ اسلام کی صراط مستقیم کے مقابل پر عیسائی منصوبہ کی ساری قلعی کھل جائے تو یہ کوشش کی گئی کہؔ یہ بحث کسی طرح ملتوی رہے تو اچھا ہے اور یہ پیالہ کسی طرح ٹل جائے تو بہتر ہو۔ اس غم وہم کے وقت میں شیخ جی سے ان کو خوب مدد ملی۔ غالباً گمان گذرتا ہے کہ خود شیخ صاحب امداد کی غرض سے پوشیدہ طور پرحضرات پادری صاحبوں کی خدمت میں گئے ہوں گے کیونکہ جو ڈاکٹرصاحب نے مجھ کو خط لکھا ہے اور اشاعۃ السنۃ کے بعض مضامین درج فرمائے ہیں وہ عبارت شیخ جی کی عبارت سے بہت ہی مشابہ ہے اگر شیخ جی کو قسم دے کر پوچھا جائے تو غالباً انکار بھی نہیں کریں گے اور پھر جب وہ ضمیمہ نور افشاں جو ۱۲ مئی ۱۸۹۳ ؁ء میں چھپا ہے اور اس وقت ہمارے ہاتھ میں ہے اس کو غور سے