اور پھر مرزا صاحب کو اختیار ہوگا کہ کوئی اور سوال جو چاہیں پیش کریں مگر چھ دن کے اندر اندر۔ ۱۳۔ دوسرا زمانہ بھی ۶ دن کا ہوگا یعنی مئی ۲۹ سے جون ۳ تک۔ (اگرؔ اس قدر ضرورت ہوئی) اس زمانہ میں مسٹر عبداللہ آتھم خاں صاحب کو اختیار ہوگا کہ اپنے سوالات بہ تفصیل ذیل پیش کریں:۔ (ا۱) رحم بلامبادلہ (ب۲) جبر اور قدر (ج۳) ایمان بالجبر (د۴) قرآن کے خدائی کلام ہونے کا ثبوت (س۵) اس بات کا ثبوت کہ محمد صاحب (صلی اللہ علیہ وآلہ ٖوسلم) رسول اللہ ہیں۔ وہ اور سوال بھی کرسکتے ہیں۔ بشرطیکہ ۶ دن سے زیادہ نہ ہوجائے۔ (۱۴) ٹکٹ ۱۵ مئی تک جاری ہوجانے چاہئیں۔ وہ ٹکٹ مفصلہ ذیل نمونہ کے ہوں گے۔ (۱۵) عیسائیوں اور ڈپٹی عبداللہ آتھم خاں صاحب کی طرف سے یہ قواعد واجب الاطاعت اور یہ صحیح تحریر مانی گئی۔ ’’بطور شہادت َ میں (جس کے دستخط نیچے درج ہیں) مسٹر عبداللہ آتھم خاں صاحب کی طرف سے دستخط کرتا ہوں اور مذکورہ بالا شرائط میں سے کسی شرط کا توڑنا فریق توڑنے والے کی طرف سے ایک اقرار گریز خیال کیا جائے گا۔‘‘ (۱۶) تقریروں پر صاحبان صدر اور تقریر کنندگان اپنے اپنے دستخط ان کی صحت کے ثبوت میں ثبت کریں گے۔ دستخط ہنری کلارک ایم۔ ڈی وغیرہ امرتسر۔ اپریل ۲۴ ۔۱۸۹۳ء ؁