نموؔ نہ ٹکٹ نمونہ ٹکٹ مباحثہ مابین ڈپٹی عبداللہ آتھم خانصاحب مباحثہ مابین ڈپٹی عبداللہ(آتھم) خانصاحب امرتسری اور مرزا غلام احمد صاحب قادیانی امرتسری اور مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ٹکٹ داخلہ عیسائیوں کے لئے ٹکٹ داخلہ فریق مسلمانوں کے لئے داخل کرو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کو داخل کرو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ کو نمبر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دستخط مرزا صاحب نمبر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دستخط ڈاکٹر کلارک صاحب امرتسر ۲۴ - ۴ - ۱۸۹۳ء رجسٹرڈ خط جو ۲۵ ؍اپریل کو پادری صاحب کے ۲۴ ؍اپریل کے خط کے جواب میں بھیجا گیا بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم مشفق مہربان پادری صاحب سلامت بعد ماوجب میں نے آپ کی چٹھی کو اول سے آخر تک سنا میں ان تمام شرائط کو منظور کرتا ہوں جن پر آپ کے اور میرے دوستوں کے دستخط ہوچکے ہیں لیکن سب سے پہلے یہ بات تصفیہ پاجانی چاہئے کہ اس مباحثہ اور مقابلہ سے علت غائی کیا ہے کیا یہ انہیں معمولی مباحثات کی طرح ایک مباحثہ ہوگا جو سالہائے دراز سے عیسائیوں اور مسلمانوں میں پنجاب اور ہندوستان میں ہورہے ہیں جن کا ماحصل یہ ہے کہ مسلمان تو اپنے خیال میں یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہم نے عیسائیوں کو ہریک بات میں شکست دی ہے اور عیسائی اپنے گھر میں یہ باتیں کرتے ہیں کہ مسلمان لاجواب ہوگئے ہیں اگر اسی قدر ہے تو یہ بالکل بے فائدہ اور تحصیل حاصل ہے اور بجز اس بات کے اس کا آخری نتیجہ کچھ نظر نہیں آتا کہ چند روز بحث مباحثہ کا شورو غوغا ہوکر پھر ہریک فضول گو کو اپنی ہی طرف کا غلبہ ثابت کرنے کے لئے باتیں بنانے کا موقعہ ملتا رہے مگر میں یہ چاہتا ہوں کہ حق کھل جائے اور ایک دنیا کو سچائی نظر آجائے اگر فی الحقیقت حضرت مسیح علیہ السلام خدا ہی ہیں۔ اور وہی ربّ العالمین اور خالق السموات والارض ہے۔ تو بے شک ہم لوگ کافر کیا اکفر ہیں۔ اور بے شک اس صورت میں دین اسلام حق پر نہیں ہے لیکن اگر حضرت