حضرت مسیح علیہ السلام درحقیقت خدا تھے اور وہی خالق ارض و سما تھے۔ اور ہمارا یہ بیان ہے کہ وہ سچے نبی ضرور تھے رسول تھے۔ خداتعالیٰ کے پیارے تھے مگر خدا نہیں تھے سو انہیں امور کے حقیقی فیصلہ کیلئے یہ مقابلہ ہوگا مجھ کو خداتعالیٰ نے براہ راست اطلاع دی ہے کہ جس تعلیم کو قرآن لایا ہے وہی سچائی کی راہ ہے اسی پاک توحید کو ہر یک نبی نے اپنی امت تک پہنچایا ہے مگر رفتہ رفتہ لوگ بگڑ گئے اور خداتعالیٰ کی جگہ انسانوں کو دے دی۔ غرض یہی امر ہے جس پر بحث ہوگی اور میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ وقت آگیا ہے کہ خداتعالیٰ کی غیرت اپنا کام دکھلائے گی اور میں امید رکھتا ہوں کہ اس مقابلہ سے ایک دنیا کیلئے مفید اور اثر انداز نتیجے نکلیں گے اور کچھ تعجب نہیں کہ اب کل دنیا یا ایک بڑا بھاری حصہ اس کا ایک ہی مذہب قبول کرلے جو سچا اور زندہ مذہب ہو اور جن کے ساتھ ساتھ خداتعالیٰ کی مہربانی کا بادل ہو۔ چاہئے کہ یہ بحث صرف زمین تک محدود نہ رہے بلکہ آسمان بھی اس کے ساتھ شامل ہو اور مقابلہ صرف اس بات میں ہو کہ روحانی زندگی اور آسمانی قبولیت اور روشن ضمیری کس مذہب میں ہے اور میں اور میرا مقابل اپنی اپنی کتاب کی تاثیریں اپنے اپنےؔ نفس میں ثابت کریں۔ ہاں اگر یہ چاہیں کہ معقولی طور پر بھی ان دونوں عقیدوں کا بعد اس کے تصفیہ ہو جائے تو یہ بھی بہتر ہے مگر اس سے پہلے روحانی اور آسمانی آزمائش ضرور چاہئے۔ والسّلام علٰی من اتبع الھدٰی خاکسار غلام احمد قادیان ضلع گورداسپور۔ ۲۳؍ اپریل ۱۸۹۳ء امرت سر (۲۴ ؍اپریل ۱۸۹۳ء) ترجمہ چٹھی ڈاکٹر کلارک صاحب بخدمت مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان جناب من۔ مولوی عبدالکریم صاحب بمعیت معزز سفارت یہاں پہنچے اور مجھے آپ کا دستی خط دیا۔ جناب نے جو مسلمانوں کی طرف سے مجھے مقابلہ کیلئے دعوت کی ہے اس کو میں بخوشی قبول کرتا ہوں آپ کی سفارت نے آپ کی طرف سے مباحثہ اور شرائط ضروریہ کا فیصلہ کرلیا ہے اور