جسؔ کا آپ نے اپنے خط میں ذکر فرمایا ہے اپنے چند عزیز دوست بطور سفیر منتخب کر کے آپ کی خدمت میں روانہ کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ اس پاک جنگ کے لئے آپ مجھے مقابلہ پر منظور فرماویں گے جب آپ کا پہلا خط جو جنڈیالہ کے بعض مسلمانوں کے نام تھا مجھ کو ملا اور میں نے یہ عبارتیں پڑھیں کہ کوئی ہے کہ ہمارا مقابلہ کرے تو میری روح اسی وقت بول اٹھی کہ ہاں میں ہوں جس کے ہاتھ پر خداتعالیٰ مسلمانوں کو فتح دے گا اور سچائی کو ظاہر کرے گا۔ وہ حق جو مجھ کو ملا ہے اور وہ آفتاب جس نے ہم میں طلوع کیا ہے وہ اب پوشیدہ رہنا نہیں چاہتا میں دیکھتا ہوں کہ اب وہ زوردار شعاعوں کے ساتھ نکلے گا اور دلوں پر اپنا ہاتھ ڈالے گا اور اپنی طرف کھینچ لائے گا لیکن اس کے نکلنے کیلئے کوئی تقریب چاہئے تھی سو آپ صاحبوں کا مسلمانوں کو مقابلہ کیلئے بلانا نہایت مبارک اور نیک تقریب ہے مجھے امید نہیں کہ آپ اس بات پر ضد کریں کہ ہمیں تو جنڈیالہ کے مسلمانوں سے کام ہے نہ کسی اور سے۔ آپ جانتے ہیں کہ جنڈیالہ میں کوئی مشہور اور نامی فاضل نہیں اور یہ آپ کی شان سے بھی بعید ہوگا کہ آپ عوام سے الجھتے پھریں اور اس عاجز کا حال آپ پر مخفی نہیں کہ آپ صاحبوں کے مقابلہ کے لئے دس برس کا پیاسا ہے اور کئی ہزار خط اردو انگریزی اسی پیاس کے جوش سے آپ جیسے معزز پادری صاحبان کی خدمت میں روانہ کر چکا ہوں اور پھر جب کچھ جواب نہ آیا تو آخر ناامید ہوکر بیٹھ گیا چنانچہ بطور نمونہ ان خطوں میں سے کچھ روانہ بھی کرتا ہوں۔ تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ آپ کی اسؔ توجہ کا اول مستحق میں ہی ہوں۔ اور سوائے اس کے اگر میں کاذب ہوں تو ہر ایک سزا بھگتنے کیلئے تیار ہوں میں پورے دس سال سے میدان میں کھڑا ہوں جنڈیالہ میں میری دانست میں ایک بھی نہیں جو میدان کا سپاہی تصور کیا جاوے اس لئے بادب مکلف ہوں کہ اگر یہ امر مطلوب ہے کہ یہ روز کے قصے طے ہو جائیں اور جس مذہب کے ساتھ خدا ہے اور جو لوگ سچے خدا پر ایمان لا رہے ہیں ان کے کچھ امتیازی انوار ظاہر ہوں تو اس عاجز سے مقابلہ کیا جائے۔ آپ لوگوں کا یہ ایک بڑا دعویٰ ہے کہ